لاہور میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی ہلاکت کے معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دونوں کی موت کی وجہ ایک ہی وقت میں 'ہارٹ اٹیک' قرار دی گئی۔ اس انکشاف کے بعد قانونی حلقوں اور عوامی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

لاہور پولیس حراست میں خواتین کی ہلاکت: انکوائری میں کیا سامنے آیا؟

اس افسوسناک واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کامران کرامت کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کو جمع کروا دی ہے۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین کی موت طبعی وجوہات یعنی دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی، تاہم اس دعوے پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

  • واقعہ لاہور میں پولیس کی زیرِ حراست پیش آیا۔
  • پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ ہارٹ اٹیک بتائی گئی ہے۔
  • جوڈیشل مجسٹریٹ نے اپنی انکوائری رپورٹ سیشن جج کے حوالے کر دی ہے۔

طبی رپورٹ پر شکوک و شبہات

لاہور پولیس حراست میں خواتین کی ہلاکت کے اس واقعے میں ایک ہی وقت میں دو افراد کو دل کا دورہ پڑنا ایک غیر معمولی طبی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ورثاء کی جانب سے اس رپورٹ کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کسی غیر جانبدار میڈیکل بورڈ سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کروایا جائے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

سیشن جج اب اس جوڈیشل انکوائری رپورٹ کا جائزہ لیں گے۔ اگر عدالت کو رپورٹ میں خامیاں نظر آئیں تو مزید قانونی کارروائی یا اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کیس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ یا مجرمانہ کارروائی کا دارومدار اب عدالت کے اگلے احکامات پر ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اس کیس کی تازہ ترین پیش رفت کے لیے عدالتی فیصلوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ عوامی دباؤ اور شفاف تحقیقات ہی اس بات کا تعین کر سکتی ہیں کہ کیا یہ واقعی طبعی موت تھی یا حراست کے دوران تشدد کا کوئی واقعہ۔ انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی کارروائی کو مانیٹر کرنا ہر شہری کا حق ہے۔