لاہور پولیس نے خواتین کو انصاف کی بروقت فراہمی اور ان کی شکایات کے ازالے کے لیے شہر کے تمام 84 تھانوں میں خواتین پولیس افسران کی 24 گھنٹے موجودگی کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو پولیس اسٹیشنوں میں ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بلا جھجھک اپنی قانونی شکایات درج کروا سکیں۔
لاہور پولیس ویمن آفیسرز کے ذریعے انصاف تک رسائی
ماضی میں خواتین کے لیے تھانے جا کر ہراسانی، گھریلو تشدد یا دیگر قانونی مسائل کی شکایت کرنا ایک مشکل عمل رہا ہے۔ اب لاہور پولیس ویمن آفیسرز کی تمام 84 تھانوں میں ہر وقت موجودگی اس رکاوٹ کو دور کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اس فیصلے کے تحت، اب کسی بھی خاتون کو اپنی شکایت درج کروانے کے لیے کسی مخصوص شفٹ کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، کیونکہ ہر تھانے میں اب خواتین افسران ہر وقت ڈیوٹی پر موجود ہوں گی۔
یہ اقدام مقامی تحفظ کے لیے کیوں اہم ہے؟
خواتین پولیس اہلکاروں کی موجودگی سے متاثرین کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانے اور ان کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اکثر ثقافتی رکاوٹوں اور مرد افسران کے سامنے اپنی بات کہنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے خواتین کئی واقعات کی رپورٹنگ نہیں کر پاتیں۔ اس پالیسی کے نفاذ سے درج ذیل بہتری متوقع ہے:
- پولیس اسٹیشن آنے والی خواتین کو فوری قانونی رہنمائی فراہم کرنا۔
- گھریلو تشدد اور ہراسانی کے واقعات کی رپورٹنگ کی حوصلہ افزائی۔
- خواتین کے لیے ایف آئی آر (FIR) درج کروانے کے عمل کو آسان بنانا۔
- پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد میں اضافہ۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کو یا آپ کے کسی جاننے والے کو مدد کی ضرورت ہو، تو آپ کسی بھی وقت اپنے قریبی تھانے جا سکتے ہیں۔ چونکہ یہ پالیسی تمام 84 تھانوں میں نافذ ہو چکی ہے، آپ وہاں موجود خاتون افسر سے مدد لینے کا حق رکھتے ہیں۔ اگر آپ کو کسی تھانے میں خاتون افسر دستیاب نہ ملے یا کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا ہو، تو آپ پنجاب پولیس کی ہیلپ لائن پر کال کر کے اس کی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
لاہور پولیس ویمن آفیسرز کی 24/7 تعیناتی کا فیصلہ یقیناً خوش آئند ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ اسے کس قدر مؤثر طریقے سے نافذ کیا جاتا ہے۔ شہریوں کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ آیا یہ تعیناتی خاص طور پر رات کے اوقات میں بھی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ امید ہے کہ سی سی پی او آفس جلد ہی ان افسران کی تربیت اور فرائض سے متعلق مزید تفصیلات جاری کرے گا تاکہ وہ خواتین کی شکایات کو بہترین طریقے سے نمٹا سکیں۔
