لاہور میں بدھ، 11 جون 2025 کو شہر کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) علاقے میں تین پولیس اہلکاروں کو ہدف بنا کر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ ان میں سب انسپکٹر محمد افضل اور ان کا بیٹا ہیڈ کانسٹیبل محمد عثمان شامل تھے، جو دونوں گلبרג پولیس اسٹیشن سے تعلق رکھتے تھے۔ تیسرے متاثر کانسٹیبل محمد علی بھی اسی اسٹیشن سے منسلک تھے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق قاتل ایک سفید ٹویوٹا کارولا میں فرار ہوئے تھے، جس میں جی پی ایس ٹریکر نصب تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قاتلوں نے خود ہی یہ ٹریکر لگایا تھا، لیکن انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ ان کی real-time لوکیشن نشر کر رہا تھا۔ یہ ٹریکر گاڑی کے فورینک سروے کے دوران ماڈل ٹاؤن کے قریب سے برآمد ہوئی۔
اس حملے کو ‘افغانی ٹاسک’ نامی ایک طویل المدتی آپریشن سے جوڑا جا رہا ہے، جو لاہور پولیس اور پاکستان کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس آپریشن کا مقصد افغان سرحد کے قریب سرگرم مسلح گروہوں پر کڑی کارروائی کرنا ہے۔ اگرچہ حکام نے براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرین خصوصی یونٹ کا حصہ تھے جس نے حال ہی میں لاہور کے مضافات میں چھاپے مارے تھے اور ہتھیار برآمد کیے تھے۔
ٹریکر نے کیس کیسے توڑا
تفتیشی ٹیموں نے ٹریکر سے ڈاٹا لاگز حاصل کیے ہیں، جن میں گاڑی کا راستہ ڈی ایچ اے فیز VI (جہاں فائرنگ ہوئی) سے شروع ہو کر کینال روڈ، جناح ہسپتال اور آخر کار ماڈل ٹاؤن پہنچتا ہے، جہاں اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان لاگز میں گاڑی کے اندر نصب خفیہ مائیکروفون کی آواز کی ریکارڈنگز بھی شامل ہیں، جن کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
اب تک دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں 21 سالہ ماہ نور شہزادی بھی شامل ہے، جو ہدف بنا کر فائرنگ کرنے والے فیاض بٹ کی بیٹی ہے۔ فیاض بٹ کو 2024 میں پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ماہ نور کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا فورینک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ گروہ کے دیگر ارکان کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تیسرے مشتبہ کی تلاش جاری ہے۔
‘افغانی ٹاسک’ کیا ہے؟
‘افغانی ٹاسک’ 2023 میں قائم کیا گیا ایک خصوصی آپریشنز یونٹ ہے، جس کا مقصد لاہور میں ہدف بنا کر فائرنگ، بلیک میلنگ اور مسلح ڈکیتیوں پر کڑی کارروائی کرنا ہے، جن میں اکثر افغان شہریوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس یونٹ نے پچھلے سال میں 50 سے زائد چھاپے مارے ہیں، جن میں آٹومیٹک ہتھیار، دھماکا خیز مواد اور جعلی کرنسی بھی برآمد ہوئی ہے۔ مارچ 2025 میں، اس ٹیم نے رائے ونڈ سے 50 ملین روپے مالیت کی ہیروئن اور اے کے-47 رائفلز کے ساتھ 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔
اگرچہ پولیس نے بدھ کے حملے کو ان آپریشنز کا براہ راست بدلہ قرار نہیں دیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وقت کا تناسب مشتبہ ہے۔ متاثرین کی یونٹ ڈی ایچ اے اور گلبرج جیسے اپر کلاس علاقوں میں اپहरण برائے تاوان اور ہدف بنا کر فائرنگ کے گروہوں کو نشانہ بنا رہی تھی۔
متاثرین: نیلی وردی میں باپ بیٹا
سب انسپکٹر محمد افضل، 52 سال، لاہور پولیس میں 30 سال کی خدمت کے بعد شہید ہوئے۔ ان کے بیٹے ہیڈ کانسٹیبل محمد عثمان، 28 سال، پانچ سال سے گلبرج پولیس اسٹیشن سے منسلک تھے۔ تیسرے متاثر کانسٹیبل محمد علی، 34 سال، صرف دو سال قبل اس فورس میں شامل ہوئے تھے۔
پڑوسی ان خاندان کو گھلے ملے بتاتے ہیں، جہاں افضل کی بیوی اور عثمان کی بیوی دونوں ڈی ایچ اے فیز VI کے ایک ہی گھر میں رہتی تھیں۔ اس حملے سے تین بیوہ اور چھ بچے اپنے باپوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ گلبرج پولیس اسٹیشن میں جمعہ کو ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے، جہاں سینئر افسران اور مقامی سیاست دان شرکت کریں گے۔