لاہور کے غازی آباد پولیس اسٹیشن کے ایس آئی عمران پر ایک بھکاری خاتون کے ساتھ جنسی ہراسانی اور عصمت دری کی کوشش کا الزام عائد ہوا ہے۔ پولیس کے اندرونی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھکاریوں کی 'نظم و ضبط' کے نام پر ان کے ساتھ زیادتی کا شکار بناتا رہا ہے۔

الزام ہے کہ ایس آئی عمران نے 9 جون 2025 کو بھکاری خاتون کو پولیس وین میں بلایا اور اسے ریکارڈ کرنے کے بہانے ایک غیر آباد علاقے میں لے گیا جہاں اس نے اس پر جنسی حملہ کرنے کی کوشش کی۔ خاتون نے فرار ہو کر اگلے دن شکایت درج کرائی۔

اہم حقائق
- مجرم: ایس آئی عمران، غازی آباد پولیس اسٹیشن، لاہور
- متاثرہ: ایک بھکاری خاتون (پولیس نے رازداری برقرار رکھی)
- الزامات: جنسی ہراسانی اور عصمت دری کی کوشش
- کارروائی: ایس آئی عمران کی معطلی، متاثرہ کو پولیس تحفظ
- تفتیش کی آخری تاریخ: 48 گھنٹے، لاہور سی سی پی او کے حکم پر

یہ شکایت 12 جون 2025 کو غازی آباد پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی، لیکن پولیس ریکارڈ کے جائزے کے بعد ہی اس معاملے کی تفصیلات سامنے آئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایس آئی عمران کو تین ماہ قبل بھکاریوں کی نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ ان کا کام بھکاریوں کی نگرانی، ان کی تفصیلات ریکارڈ کرنا اور عوامی مقامات پر رکاوٹ نہ بننے کا یقین کرانا تھا۔

الزامات کیسے سامنے آئے

پولیس کے دستاویزات کے مطابق ایس آئی عمران کو بھکاریوں کی 'نظم و ضبط' کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ایس آئی عمران نے اسے 9 جون 2025 کو پولیس وین میں بلایا اور ریکارڈ کرنے کے بہانے رavi روڈ کے قریب ایک غیر آباد علاقے میں لے گیا جہاں اس نے اس پر جنسی حملہ کرنے کی کوشش کی۔ خاتون فرار ہو گئی اور اگلے دن شکایت درج کرائی۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایس آئی عمران پر 2023 میں بھی بدسلوکی کے الزامات لگے تھے، لیکن اس وقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ اس وقت تفتیش ایک ڈی ایس پی رینک کے افسر کی زیر قیادت ہو رہی ہے، جسے 14 جون 2025 تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

قانون کیا کہتا ہے اور یہ کیوں اہم ہے

پاکستان کے خواتین کے کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف تحفظ ایکٹ 2010 کے تحت جنسی ہراسانی ایک سنگین جرم ہے جس کی سزا تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ تاہم، کارکنوں کا کہنا ہے کہ نفاذ کمزور ہے، خاص طور پر بھکاریوں جیسے کمزور طبقات کے معاملات میں جن کے پاس قانونی چارہ جوئی کے ذرائع نہیں ہوتے۔

لاہور کی بھکاریوں کی تنظیم کاری پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں، جن پر تنقید کی جاتی ہے کہ یہ غربت کو جرم قرار دیتی ہیں نہ کہ اس کے بنیادی اسباب کو دور کرتی ہیں۔ 2024 میں، لاہور ہائی کورٹ نے شہر کی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ بھکاریوں کو جرم قرار دینے کی پالیسی ختم کر کے انہیں سماجی فلاح و بہبود کی سہولیات فراہم کریں۔ تاہم، اس پر عمل درآمد سست ہے اور بہت سے افسران اب بھی بھکاریوں کو 'پریشانی' کے طور پر دیکھتے ہیں نہ کہ تحفظ کے مستحق افراد کے طور پر۔

آگے کیا ہوگا؟

لاہور سی سی پی او نے ایس آئی عمران کے خلاف تیز مقدمے کا حکم دیا ہے۔ ملزم افسر کو معطل کر دیا گیا ہے اور اس کی سروس ہتھیار بھی ضبط کر لی گئی ہے۔ متاثرہ خاتون کا بیان سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا ہے، جو مقدمے سے پہلے گواہی ریکارڈ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

قانون دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ پولیس کی بدسلوکی کے خلاف ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔ 'اگر یہ افسر سزا پاتا ہے تو یہ ایک مضبوط پیغام ہوگا کہ کوئی بھی شخص، چاہے وہ کسی بھی عہدے پر ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہے'، لاہور کے وکیل احمد رضا نے کہا۔

اس کے ساتھ ہی، لاہور سوشل ویelfare ڈیپارٹمنٹ کو متاثرہ خاتون کو عارضی پناہ اور مالی امداد فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔ کارکن ایک عوامی تفتیش کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ لاہور کی بھکاریوں کی نگرانی کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے، جس پر الزام ہے کہ یہ نظام بدسلوکی کو فروغ دیتا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے پر پولیس کی بدسلوکی یا ہراسانی کا واقعہ پیش آیا ہے:

  • شکایت درج کریں قریبی پولیس اسٹیشن یا لاہور پولیس اندرونی احتساب یونٹ (رابطہ: 042-99204444) پر۔
  • قانونی مدد حاصل کریں ایسے اداروں سے جیسے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) یا اورات فاؤنڈیشن سے۔
  • شواہد جمع کریں—آڈیو، ویڈیو، یا گواہوں کے بیانات آپ کے کیس کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
  • جوابدہی کا مطالبہ کریں—اپنے مقامی ایم این اے یا ایم پی اے سے پولیس کے رویے میں اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالیں۔

کیا دیکھنا ہے

  • 14 جون 2025: پولیس تفتیش رپورٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ۔
  • اگلا عدالتی تاریخ: تفتیش مکمل ہونے کے بعد اعلان ہوگا۔
  • لاہور ہائی کورٹ کی سماعت: شہر کی بھکاریوں کی تنظیم کاری پالیسی پر (تاریخ بعد میں اعلان ہوگی)۔
  • عوامی ردعمل: سول سوسائٹی گروپوں کی جانب سے احتجاج یا بیانات اگر مقدمے کو ٹھیک سے نہیں چلایا گیا تو سامنے آ سکتے ہیں۔