لاہور پولیس نے شہر بھر کے تھانوں میں خواتین کے حوالے سے نئی پالیسی کا نفاذ کر دیا ہے، جس کے تحت سورج غروب ہونے کے بعد خواتین کا تھانوں میں قیام ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، محمد فیصل کامران کی جانب سے جاری کردہ اس ہدایت کا مقصد خواتین کی عزت و وقار کا تحفظ یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

لاہور پولیس رولز برائے خواتین

لاہور پولیس رولز برائے خواتین کے تحت اب کوئی بھی خاتون مغرب کے بعد تھانے میں موجود نہیں رہ سکے گی۔ محکمہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قدم خواتین کے تحفظ اور ان کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کے بعد شہریوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ہنگامی صورتحال میں خواتین کو قانونی مدد کیسے ملے گی؟

اس نئی ہدایت کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- سورج غروب ہونے کے بعد خواتین کا تھانوں میں رکنے پر پابندی۔
- یہ حکم نامہ لاہور کے تمام تھانوں پر فوری طور پر لاگو ہوگا۔
- حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد خواتین کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔

اس فیصلے کی اہمیت

عام طور پر تھانے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پہلا رابطہ پوائنٹ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی خاتون کسی جرم کی رپورٹ درج کروانے یا قانونی مدد کے لیے رات کے وقت تھانے پہنچتی ہے، تو یہ نئی پابندی اس کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ رات کے وقت اگر کسی خاتون کو فوری مدد درکار ہو تو متبادل طریقہ کار کیا ہوگا۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو رات کے وقت پولیس کی فوری مدد درکار ہو تو براہ راست تھانے جانے کے بجائے پولیس کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کریں۔ اپنی لوکیشن اور مسئلے کی نوعیت بتائیں تاکہ پولیس آپ کی مدد کے لیے کسی محفوظ مقام پر پہنچ سکے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کوشش کریں کہ قانونی کارروائی کے لیے دن کے اوقات کا انتخاب کریں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

شہری اب اس بات کے منتظر ہیں کہ آئی جی پنجاب کی جانب سے اس پالیسی کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آئے گی۔ کیا ہنگامی صورتحال میں خواتین کے لیے کوئی استثنا ہوگا؟ یا کیا پولیس کوئی ایسا متبادل نظام متعارف کروائے گی جس سے خواتین کو رات کے وقت بھی بروقت انصاف مل سکے۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو مزید واضح کیے جانے کی توقع ہے۔