لاہور ٹریفک پولیس نے شہر میں ایک روٹین چیکنگ کے دوران 96,000 روپے کے غیر ادا شدہ ای چالان اور درجنوں پینڈিং ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ایک سرکاری گاڑی کو تحویل میں لے لیا ہے۔ سٹی ٹریفک حکام کے مطابق، گاڑی کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس پر طویل عرصے سے بھاری جرمانے واجب الادا تھے جنہیں ادا نہیں کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق سب کے لیے یکساں ہے اور کسی بھی سرکاری محکمے یا عہدیدار کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر رعایت نہیں دی جائے گی۔
ای چالان لاہور اور قوانین کا نفاذ
شہر بھر میں ای چالان کا نظام آنے کے بعد سے ٹریفک پولیس کی جانب سے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو سخت کر دیا گیا ہے۔ اب روڈ سائیڈ کیمروں اور وارڈن کی ڈیوائسز کے ذریعے گاڑیوں کے نمبر پلیٹ سکین کر کے موقع پر ہی پرانے بقایا جات کا پتہ لگا لیا جاتا ہے۔ اس کارروائی کے دوران بھی جب مذکورہ سرکاری گاڑی کو روکا گیا اور اس کا ای چالان ریکارڈ نکالا گیا، تو معلوم ہوا کہ اس پر درجنوں چالان جمع ہو چکے ہیں جن کی مجموعی مالیت 96,000 روپے تک پہنچ چکی تھی۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایات
اگر آپ بھی لاہور میں گاڑی چلاتے ہیں، تو آپ کو اپنے ای چالان کی حالت آن لائن ضرور چیک کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ آپ پنجاب پولیس یا سی ٹی او لاہور کی آفیشل ویب سائٹ اور پی ایس آئی سی (PSIC) ایپ کے ذریعے اپنی گاڑی کا نمبر درج کر کے بقایا جات معلوم کر سکتے ہیں۔ وقت پر جرمانے ادا نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف گاڑیاں ضبط کی جا سکتی ہیں بلکہ عدالتی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
اس واقعہ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ٹریفک پولیس تمام سرکاری محکموں کے لیے ایک جامع مہم شروع کرے گی تاکہ وہ اپنے زیر استعمال گاڑیوں کے تمام بقایا جات جلد از جلد کلیئر کریں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ سڑکوں پر قانون کی پاسداری ہر خاص و عام کے لیے یکساں طور پر لازمی ہے۔
