لاہور ریلوے اسٹیشن ان دنوں شدید نوعیت کے لاہور ریلوے اسٹیشن صفائی کے بحران کی لپیٹ میں ہے، جس کی وجہ سے مسافروں کو سفر کے دوران بدتر سہولیات اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاریخی اسٹیشن کے مختلف پلیٹ فارمز اور انتظار گاہوں میں صفائی کے ناقص انتظامات اور تعفن کی وجہ سے مسافروں کا وہاں ایک لمحہ بھی گزارنا محال ہو گیا ہے۔

مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے والا ایک اور بڑا مسئلہ برقی زینوں (ایسکیلیٹرز) کا طویل عرصے سے بند رہنا ہے۔ برقی زینے خراب ہونے کے باعث بزرگ شہریوں، خواتین اور بچوں سمیت بھاری سامان اٹھائے ہوئے مسافروں کو خود اپنے ہاتھ سے وزنی تھیلے اور سامان سیڑھیوں پر گھسیٹنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

برقی زینے بند اور قلیوں کی من مانی قیمتیں

اسٹیشن پر لفٹوں اور برقی زینوں کی بندش نے مسافروں کی پریشانیوں کو دوچار کر دیا ہے جبکہ قلی اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اسٹیشن پر موجود قلی سامان اٹھانے کے عوض اپنی مرضی کے مطابق بھاری فیس اور من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔

جو مسافر مہنگے قلیوں کی یہ اضافی رقم ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے، وہ مجبورا ًاپنا بھاری سامان خود اٹھا کر پیدل پل عبور کرنے پر مجبور ہیں۔ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور انتظامی غفلت کی وجہ سے عام شہریوں کا ریلوے سفر کسی امتحان سے کم نہیں رہا۔

ٹرینوں کی تاخیر اور مسافروں کے مسائل

صفائی اور خراب مشینری کے علاوہ ٹرینوں کی آمد و رفت میں طویل تاخیر نے مسافروں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مسافروں کا شکوہ ہے کہ ٹرینیں گھنٹوں لیٹ ہو جاتی ہیں اور ریلوے انتظامیہ کی جانب سے بروقت درست معلومات فراہم نہیں کی جاتیں، جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد گھنٹوں پلیٹ فارمز پر خوار ہوتے ہیں۔

عوام کی جانب سے بار بار شکایات کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے کوئی موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ مسافروں نے متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر صفائی کے انتظامات بہتر کیے جائیں، بند برقی زینے چالیس کیے جائیں اور من مانی کرنے والے قلیوں کے خلاف نوٹس لیا جائے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ آنے والے دنوں میں لاہور ریلوے اسٹیشن سے سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- ٹرین کے وقت سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے اسٹیشن پہنچیں تاکہ ہجوم اور تاخیر سے بچ سکیں۔
- حتیٰ الامکان ہلکا سامان ساتھ رکھیں یا پھر قلی کی خدمات حاصل کرنے سے پہلے کرایہ طے کر لیں۔
- روانگی سے قبل پاکستان ریلویز کی ہیلپ لائن یا آن لائن پورٹل سے ٹرین کی بروقت آمد کی معلومات ضرور حاصل کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

یہ دیکھنا باقی ہے کہ وزارتِ ریلویز اور اعلیٰ حکام اس انتظامی نااہلی کا نوٹس کب لیتے ہیں اور خراب برقی زینوں کی مرمت کا کام کب شروع کیا جاتا ہے۔ آئندہ دنوں میں صفائی اور مسافر دوست سہولیات کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات ہی بتائیں گے کہ حالات کتنی جلدی سدھرتے ہیں۔