صوبائی دارالحکومت کے مرکزی ٹرانسپورٹ حب پر آنے والے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ لاہور ریلوے اسٹیشن کو صفائی کے سنگین بحران، ناقابل برداشت تعفن، ٹرینوں کی مسلسل تاخیر اور خراب بنیادی ڈھانچے کا سامنا ہے۔
تاریخی اسٹیشن پر پہنچنے والے مسافر خود کو ایسے ماحول میں پھنسا ہوا پاتے ہیں جہاں صفائی کا کوئی انتظام نظر نہیں آتا اور کوڑے دان بھرے پڑے ہیں۔ اس صورتحال نے ان ہزاروں شہریوں کے لیے روزانہ کے سفر کو عذاب بنا دیا ہے جو سستے سفر کے لیے پاکستان ریلویز پر انحصار کرتے ہیں。
بند برقی زینے اور مسافروں کی مشکلات
برقی زینوں کی خرابی نے مسافروں کی روزمرہ کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ خودکار سیڑھیاں بند ہونے کی وجہ سے بزرگ مسافر، خواتین اور خاندان بھاری سامان خود گھسیٹنے پر مجبور ہیں کیونکہ انہیں پلیٹ فارمز کے درمیان سامان اٹھانے کے لیے سخت مشقت کرنا پڑتی ہے۔
اس جسمانی بوجھ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسٹیشن پر موجود قلی مبینہ طور پر من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ مسافروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سامان اٹھانے کے عوض منہ مانگے دام وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے عام آدمی کی جیب پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
صفائی کا فقدان اور ٹرینوں کی تاخیر
بنیادی ڈھانچے کی ناکامی کے علاوہ ٹرمینل کے اندر کا ماحول بھی انتہائی خراب ہو چکا ہے۔ صفائی کے نظام کی عدم توجہی اور کوڑا اٹھانے میں تاخیر کی وجہ سے انتظار گاہوں اور پلیٹ فارمز پر شدید تعفن پھیلا ہوا ہے۔
دوسری طرف ٹرینوں کی آمد و رفت میں مسلسل تاخیر سے مسافروں کے شیڈول بھی درہم برہم ہو چکے ہیں۔ گھنٹوں انتظار کرنے والے مسافر غیر صحت بخش ماحول میں بغیر مناسب بیٹھنے کی جگہ یا باتھ رومز کے انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔
مسافروں کے لیے ہدایات
اگر آپ کا آنے والے دنوں میں سفر کا ارادہ ہے تو سامان خود سنبھالنے کے لیے ٹرین کے وقت سے کافی پہلے پہنچیں۔ اگر قلی کی ضرورت پڑے تو پہلے ہی مزدوری کے نرخ طے کر لیں تاکہ غیر ضروری زیادہ پیسے دینے سے بچ سکیں۔
آئندہ کا منظرنامہ
یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان ریلویز کی انتظامیہ صفائی کے عمل کو بہتر بنانے اور خراب برقی زینوں کی مرمت کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔ حکام کو چاہیے کہ مسافروں کے شدید احتجاج سے پہلے بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔
