لاہور میں مون سون شجر کاری مہم پورے زور و شور سے جاری ہے، جس کے تحت ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور نے صوبائی دارالحکومت میں سبزہ زاروں کو بڑھانے کے لیے کام تیز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق، اس مہم کا مقصد شہر کے پارکوں، گرین بیلٹس اور عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر پودے لگا کر شہر کو سرسبز بنانا ہے۔

مون سون شجر کاری مہم کے مقاصد

اس اقدام کا بنیادی مقصد شہر کے شہری منظر نامے میں درختوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔ مون سون کے موسم کی سازگار آب و ہوا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ایجنسی اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ نئے پودوں کے زندہ رہنے کی شرح زیادہ ہو۔ یہ مہم محض خوبصورتی کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ لاہور کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز، بشمول بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور سموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک تزویراتی قدم ہے۔

مہم کیسے کام کر رہی ہے

موجودہ آپریشنل پلان کے تحت، ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور درج ذیل امور پر توجہ مرکوز کر رہی ہے:
- بڑی شاہراہوں، ہائی ویز اور رہائشی پارکوں سمیت اہم عوامی مقامات کی نشاندہی کرنا۔
- مقامی اور موسمی حالات کے مطابق پودوں کا انتخاب کرنا جنہیں نشوونما کے بعد کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
- مقامی کمیونٹی کے رہنماؤں کے ساتھ رابطہ کرنا تاکہ لگائے گئے پودوں کی طویل مدتی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ شہر کے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:
- ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور کے سوشل میڈیا پیجز یا پنجاب حکومت کی ویب سائٹ پر کمیونٹی پلانٹنگ ایونٹس کے بارے میں اپ ڈیٹس چیک کریں۔
- اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے گھر یا کاروبار کے قریب لگائے گئے پودوں کو پانی ملتا رہے، خاص طور پر مون سون کے بعد کے خشک موسم میں۔
- اپنے محلے میں موجود پرانے درختوں کو کاٹنے سے گریز کریں کیونکہ یہ ماحولیات کے لیے فوری فائدہ مند ہیں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں

جیسے جیسے مون سون کا موسم آگے بڑھے گا، پودوں کی بقا کی شرح اور لگائے گئے درختوں کی کل تعداد پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ اگست 2026 کے آخر تک حکومت ایک پروگریس رپورٹ جاری کرے گی جس میں ان علاقوں اور اثرات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اس منصوبے کے اگلے مراحل میں تجارتی اور صنعتی زونز تک شجر کاری کو وسعت دینے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری بھی شامل ہو سکتی ہے۔