لاہور ٹریفک پولیس نے حضرت امام حسین (ع) کے چہلم اور حضرت داتا گنج بخش (رع) کے سالانہ عرس کے دوران متوقع شدید ٹریفک جیم سے نمٹنے کے لیے لاہور ٹریفک پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔ چیف ٹریفک افسر (سی ٹی او) سید عبدالرحیم شیرازی نے منگل کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وارڈنوں کی تعیناتی اور ڈائیورژن پوائنٹس کا جائزہ لیتے ہوئے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ حساس راستوں پر ٹریفک کی روانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ شہر کے اندرونی حصوں اور مزارات کے گرد ہزاروں عقیدت مندوں کی آمد کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
متبادل راستے اور ڈائیورژنز
اگر آپ لاہور کے وسطی علاقوں میں سفر کرتے ہیں تو کربلا گامے شاہ، سرکلر روڈ اور لوئر مال کے اردگرد سخت حفاظتی حصار اور راستوں کی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہیوی ٹرانسپورٹ کا داخلہ مرکزی زونز میں مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، جنہیں رنگ روڈ اور متبادل بائی پاسز کی طرف موڑا جائے گا۔ داتا دربار کمپلیکس کے قریب ٹریفک روانہ کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جہاں عرس کے دنوں میں پیدل چلنے والوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔ شہر کے مشرقی اور مغربی حصوں کے درمیان سفر کرنے والے شہری جين مندر، چوبرجی اور ایم اے جناح روڈ کے راستے استعمال کریں۔
پارکنگ اور سیکیورٹی کے اقدامات
جلوس کے راستوں اور مزار کے گردونواح میں غیر قانونی پارکنگ کرنے والی گاڑیوں کو فوری طور پر لفٹ کر کے بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔ ٹریفک انتظامیہ نے زائرین کے لیے مخصوص پارکنگ جگہیں مختص کی ہیں جن میں روی روڈ اور پرانے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے گراؤنڈز شامل ہیں۔ داخلی راستوں پر سیکیورٹی چیکنگ کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت سست ہو سکتی ہے، اس لیے مسافر اضافی وقت لے کر گھر سے نکلیں۔ وارڈنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مرکزی جلوس کے راستوں پر ڈبل پارکنگ یا تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
- گھر سے نکلنے سے پہلے پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز یا نیویگیشن سسٹمز پر لائیو ٹریفک اپ ڈیٹس چیک کریں۔
- رش کے اوقات میں داتا دربار، لوئر مال اور سول سیکرٹریٹ کے علاقوں کی طرف بلاضرورت سفر سے گریز کریں۔
- تعینات ٹریفک عملے سے تعاون کریں اور عارضی ڈائیورژن کے بورڈز پر سختی سے عمل کریں۔
- اپنی گاڑی صرف مجاز پارکنگ زونز میں کھڑی کریں تاکہ وہ اٹھائے جانے سے محفوظ رہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
مرضی کے دنوں کی آمد کے ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پبلک ٹرانسپورٹ معطل کرنے یا راستوں میں مزید تبدیلیوں کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ ٹریفک حکام کی جانب سے ریئل ٹائم میں بند راستوں سے بچنے کے لیے ہر گھنٹے کی ٹریفک ایڈوائزری بھی جاری کی جائے گی۔
