لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) سید عبدالرحیم شیرازی کی ہدایت پر ٹریفک پولیس نے شہر کے ٹاپ 100 ای چالان نا دہندگان کے خلاف باضابطہ کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جس کے تحت بھاری جرمانے ادا نہ کرنے والی گاڑیوں کو موقع پر ہی بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
آڈٹ رپورٹس کے مطابق لاہور میں دسیوں نجی اور تجارتی گاڑیاں ایسی ہیں جن پر درجنوں اور بعض کی صورت میں سینکڑوں ای چالان واجب الادا ہیں، لیکن گاڑی مالکان نے عرصے سے ان کی ادائیگی نہیں کی۔ اس صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ٹریفک پولیس کے خصوصی دستوں کو جدید ڈیجیٹل آلات کے ساتھ اہم شاہراؤں، چوراہوں اور اینٹری پوائنٹس پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
لاہور کے ہر ڈرائیور کے لیے اہم معلومات درج ذیل ہیں:
- ہدف: لاہور شہر میں سب سے زیادہ نا دہندہ ٹاپ 100 گاڑیاں۔
- کارروائی: تمام واجبات کی مکمل ادائیگی تک گاڑیوں کی ٹریفک تھانوں میں فوری ضبطی۔
- نگران افسر: چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور، سید عبدالرحیم شیرازی۔
- قانون نتائج: گاڑیوں کی ضبطی، محکمہ آباکاری کے ذریعے رجسٹریشن کی معطلی اور قانونی نوٹس۔
- سرکاری پورٹل: `echallan.psca.gop.pk` اور 'e-Pay Punjab' موبائل ایپلیکیشن۔
کریک ڈاؤن کا طریقہ کار اور سیف سٹی کیمرے
ٹریفک پولیس پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے سی سی ٹی وی اور آٹو میٹڈ نمبر پلیٹ ریکگ نیشن (ANPR) کیمروں کے ذریعے کارروائی کر رہی ہے۔ جیل روڈ، فیروز پور روڈ، گلبرگ مین بلیوارڈ اور رنگ روڈ پر نصب کیمرے جیسے ہی کسی نا دہندہ گاڑی کی نشان دہی کرتے ہیں، قریب موجود ٹریفک وارڈن کے ہینڈ ہیلڈ ڈیوائس پر فوراً الرٹ موصول ہو جاتا ہے۔
وارڈن گاڑی کو روک کر موقع پر ہی چالان اور گاڑی کی ضبطی کی سلپ جاری کرتے ہیں، جس کے بعد گاڑی کو ٹریفک پولیس کے مخصوص یارڈ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ سی ٹی او لاہور کے مطابق کسی بھی گاڑی کو کسی ذاتی ضمانت پر نہیں چھوڑا جائے گا، بلکہ تمام جرمانوں کی اصل چالان رسپٹس اور ملکیت کے دستاویزات پیش کرنے پر ہی گاڑی ریلیز ہوگی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ فہرست میں شامل کئی گاڑیوں پر 50 ہزار روپے سے لے کر 3 لاکھ روپے سے زائد کے ای چالان واجب الادا ہیں۔ ان چالانز میں ریڈ سگنل توڑنا، حد رفتار سے تجاوز، لین کی خلاف ورزی اور بغیر سیٹ بیلٹ ڈرائیونگ جیسے سنگین ڈرائیونگ جائم شامل ہیں۔
محض گاڑی کی ضبطی نہیں، دیگر پابندیاں بھی لاگو
ٹریفک پولیس صرف گاڑیاں بند کرنے پر اکتفا نہیں کر رہی، بلکہ ڈائریکٹوریٹ آف ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ مل کر نا دہندہ گاڑیوں کے لیے انتظامی خدمات بھی معطل کی جا رہی ہیں۔
اگر کسی گاڑی پر بھاری ای چالان التوا کا شکار ہیں تو مالکان کو درج ذیل مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا:
- گاڑی کی ملکیت کسی دوسرے شخص کے نام منتقل نہیں کی جا سکے گی۔
- سالانہ موٹر وہیکل ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی روک دی جائے گی۔
- ڈپلیکیٹ سمارٹ کارڈ یا کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہوگا۔
اگر کوئی مالک گاڑی کی ضبطی کے باوجود جرمانے ادا کرنے سے انکار کرتا ہے تو موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت گاڑی کی نیلامی کے ذریعے سرکاری واجبات وصول کیے جائیں گے۔
اپنے ای چالان چیک اور جمع کروانے کا طریقہ
کسی بھی ناکہ بندی سے بچنے کے لیے شہری خود بھی آن لائن اپنے چالانز کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ اس کا طریقہ کار نہایت آسان ہے:
- ویب سائٹ کھولیں: اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر `echallan.psca.gop.pk` پورٹل دیکھیں۔
- معلومات درج کریں: اپنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر اور مالکانہ شناختی کارڈ (CNIC) نمبر درج کریں۔
- تفصیلات دیکھیں: سکرین پر آپ کے تمام زیر التوا چالانز، تاریخ، مقام اور رقم کی تفصیل ظاہر ہو جائے گی۔
- پی ایس آئی ڈی (PSID) بنائیں: چالان کی ادائیگی کے لیے 17 ہندسوں کا پی ایس آئی ڈی کوڈ جنریٹ کریں۔
- آن لائن ادائیگی کریں: ای پے پنجاب (e-Pay Punjab) ایپ، جیز کیش، ایزی پیسہ یا کسی بھی بینکنگ ایپ کے ذریعے 'GoPb' اپشن میں جا کر ادائیگی مکمل کریں۔
ادائیگی کے چند منٹوں کے اندر سیف سٹی کے ڈیٹا بیس سے گاڑی کا سٹیٹس کلیئر کر دیا جاتا ہے۔
آنے والے دنوں میں کیا توقع رکھیں؟
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ ٹاپ 100 نا دہندگان کے خلاف یہ پہلی فیز کی کارروائی ہے، جس کے بعد اس دائرہ کار کو ٹاپ 500 اور پھر ٹاپ 1,000 گاڑیوں تک بڑھایا جائے گا۔
اس کے علاوہ لاہور رنگ روڈ کے ٹول پلازوں پر بھی ای چالان چیکنگ سسٹم فعال کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنے والے شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ رقم کی ادائیگی یا بائیناہ کرنے سے قبل آن لائن ای چالان لازمی چیک کر لیں تاکہ وہ کسی دوسرے کے جرمانوں کے بوجھ سے بچ سکیں۔
