لاہور ہائی کورٹ نے بدھ کے روز پی ٹی آئی جلسے کی درخواست کو اس وقت نمٹا دیا جب عدالت کو بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ نے سیاسی اجتماع کی اجازت دینے سے باضابطہ طور پر انکار کر دیا ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران سرکاری قانون افسران نے معزز بنچ کو آگاہ کیا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے اپوزیشن جماعت کی جانب سے دائر کی گئی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اس قانونی چارہ جوئی کے ذریعے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کو تاریخی مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں سیاسی پاور شو کی اجازت دینے کا حکم جاری کرے۔

ضلعی انتظامیہ نے اجازت کیوں روکی؟

ضلعی حکام سیکیورٹی خدات، ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور عوامی املاک کو خطرات کے پیش نظر بڑے سیاسی اجتماعات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے آئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پنجاب میں اپوزیشن کے سیاسی اجتماعات کو شدید انتظامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور آخری وقت پر پنڈال منسوخ کیے جاتے رہے ہیں۔

لاہور میں روزمرہ سفر کرنے والے عام شہری کے لیے ان عدالتی اور انتظامی رسہ کشی کا مطلب اچانک سڑکوں کی بندش، راستوں کی رکاوٹیں اور رنگ روڈ اور مال روڈ جیسے اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی ہوتا ہے۔ جب مقامات کو روکا جاتا ہے تو ٹریفک کے متبادل راستوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور شام کے اوقات میں ٹریفک جام معمول بن جاتا ہے۔

قانونی حکمت عملی اور آئندہ کے اقدامات

سیاسی جماعت کے وکلاء نے دلائل دیے کہ عوامی اجتماعات پر پابندی آئین کے تحت فراہم کردہ آزادیِ اجتماع اور نقل و حرکت کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم، جب ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے انکار کا باضابطہ حکم نامہ عدالت میں پیش کیا گیا، تو ہائی کورٹ نے مزید حکم جاری کرنے سے گریز کیا۔

  • درخواست گزار ضلعی حکام کے فیصلے کے خلاف نئے سرے سے اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
  • پارٹی رہنما لاہور کے اندر کسی متبادل مقام کے حصول پر غور کر رہے ہیں۔
  • صوبائی دارالحکومت کے حساس مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تاحال الرٹ ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ وسطی لاہور میں رہتے ہیں یا وہاں کا سفر کرتے ہیں، تو گھر سے نکلنے سے پہلے لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ ٹریفک ایڈوائزری ضرور دیکھیں۔ کسی بھی متوقع سیاسی اجتماع کے دنوں میں اہم عوامی پارکس اور یادگاروں کے اطراف سفر سے گریز کریں تاکہ کنٹینرز لگنے کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسنے سے بچ سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا سیاسی جماعت انتظامی پابندی کے خلاف کوئی نئی آئینی درخواست دائر کرتی ہے یا پنجاب کے کسی دوسرے ضلع کی طرف رخ کرتی ہے۔ صوبائی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان عوامی مقامات تک رسائی کی یہ کشمکش فی الحال تھمتی دکھائی نہیں دے رہی۔