لاہور ہائی کورٹ نے ایل پی جی کمپنیوں کی جانب سے غیر قانونی پریمیم وصول کرنے کے عمل پر حکم امتناعی جاری کر دیا ہے، جس سے صارفین کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ عدالت نے اوگرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا تفصیلی جواب جمع کروائے۔
غیر قانونی پریمیم وصولی کے خلاف عدالت کا ایکشن
صارفین کی جانب سے مسلسل شکایات تھیں کہ ایل پی جی کمپنیاں اوگرا کی مقرر کردہ قیمتوں سے زائد پریمیم وصول کر رہی ہیں۔ عدالت کے اس حکم کے بعد اب کمپنیاں سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے کی مجاز نہیں ہیں۔ یہ اقدام مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور صارفین کو اضافی بوجھ سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
عدالت نے اوگرا سے باز پرس کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ اب تک ان کمپنیوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی اور یہ غیر قانونی وصولیاں کیوں جاری رہیں۔ ریگولیٹری اتھارٹی اب اس بات کی پابند ہے کہ وہ قیمتوں کے تعین اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
صارفین کے لیے ضروری ہدایات
اگر آپ ایل پی جی استعمال کرتے ہیں، تو آپ کو اب سرکاری قیمتوں پر نظر رکھنی چاہیے۔
- اوگرا کی آفیشل ویب سائٹ ogra.org.pk پر تازہ ترین نرخ ضرور چیک کریں۔
- اگر کوئی ڈسٹری بیوٹر یا وینڈر آپ سے مقررہ قیمت سے زیادہ مانگے، تو آپ عدالت کے اس حکم کا حوالہ دے سکتے ہیں۔
- اپنی خریداری کی رسیدیں سنبھال کر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی زیادتی کی صورت میں شکایت کی جا سکے۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
عدالت نے اوگرا کو اگلی سماعت پر جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ریگولیٹر ان کمپنیوں کے خلاف سخت جرمانے عائد کرتا ہے یا نہیں۔ ہم اس کیس کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور آپ کو تمام تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھیں گے۔
