ملک بھر کے تعلیمی اداروں اور ادبی حلقوں نے منگل کے روز صوفی تبسم کی سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا اور اسور مایہ ناز ادیب، شاعر اور ماہر تعلیم کی علمی خدمات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ لاہور، اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے تعیذیمی اور ادبی اجلاسوں میں ان کی اردو اور پنجابی شاعری کے علاوہ بچوں کے ادب کے لیے دی گئی گراں قدر خدمات کو اجاگر کیا گیا۔

ادبی خدمات اور تعلیمی ورثہ

اگست 1899 میں امرتسر میں پیدا ہونے والے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گورنمنٹ کالج لاہور میں تدریس کے لیے وقف کیا۔ آپ نے فارسی شعبے کی سربراہی کی اور فیض احمد فیض سمیت کئی نامور شخصیات کی آبیاری کی۔ بچوں کے لیے 'طوط بٹوط' جیسے لازوال کردار تخلیق کرنے والے صوفی جی نے فارسی، جرمن اور فرانسیسی ادب کے تراجم بھی کیے جو اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ منگل کے روز ہونے والی تقریبات میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو ان کے ادبی کام سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ صوفی تبسم کے ادبی ورثے سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:

  • مقامی لائব্রریز یا یونیورسٹیوں کے کتب خانوں میں ان کی شاعری کی کتب کا مطالعہ کریں۔
  • اپنے گھر کے بچوں کو 'طوط بٹوط' کی نظمیں پڑھائیں تاکہ وہ اردو زبان اور شاعری سے قریب ہوں۔
  • لاہور اور دیگر شہروں میں ہونے والے ادبی میلوں اور سیمینارز میں شرکت کریں۔
  • کلاسیکی ادب کو شائع کرنے والے مقامی اشاعتی اداروں کی حوصلہ افزائی کریں۔

آئندہ کیا متوقع ہے

ان تقریبات کے بعد ادبی تنظیموں کی جانب سے نوجوان شعراء کے لیے خصوصی ایوارڈز اور وظائف کا اعلان متوقع ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور ادبی حلقے صوفی تبسم کے نام سے کسی مستقل ریسرچ سینٹر یا آرکائیو کے قیام کے لیے حکومت سے مطالبات بھی کر رہے ہیں۔ صوبائی محکمہ ثقافت کے آئندہ کے پروگراموں میں کلاسیکی ادب کے فروغ کے لیے مزید تقریبات شامل کیے جانے کا امکان ہے۔