لوری پیٹی نے اے لیگ آف دیئر اون کے آڈیشنز کے بارے میں ایک حیران کن منظر پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے 1992 کی کلاسک اسپورٹس فلم کی کاسٹنگ کے دوران موجود شدید جوش و خروش اور مقابلے کی فضا کا ذکر کیا ہے۔ 'پیپل میگزین' کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں، اداکارہ نے اس سخت عمل پر بات کی جس کے نتیجے میں انہیں 'کٹ کیلر' کا کردار ملا۔
آڈیشنز کی حقیقت
اگرچہ مداح اس فلم کو اس کی دل کو چھو لینے والی کہانی اور شاندار اداکاری کے لیے یاد رکھتے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے کی حقیقت کافی مختلف تھی۔ پیٹی نے بتایا کہ کاسٹنگ کے دوران ماحول بہت ہیجان خیز تھا، کیونکہ ہالی ووڈ کی تقریباً ہر ابھرتی ہوئی اداکارہ 'راک فورڈ پیچز' ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے کوشاں تھی۔
- انتخاب کے عمل میں بیس بال کی سخت تربیت شامل تھی۔
- ہدایت کار ایسے اداکاروں کی تلاش میں تھے جو پیشہ ور کھلاڑی کا کردار بخوبی نبھا سکیں۔
- مقابلہ سخت تھا اور کئی مشہور ستاروں کو بار بار آڈیشن کے لیے بلایا گیا۔
پیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پروڈکشن ٹیم صرف اداکاری کی صلاحیت نہیں دیکھ رہی تھی، بلکہ وہ جسمانی قابلیت بھی چاہتی تھی۔ فلم کی ٹیم سے توقع تھی کہ وہ حقیقت میں کھیل سیکھیں، جس نے ان اداکاروں کو باہر کر دیا جو کردار کی جسمانی ضروریات کے لیے تیار نہیں تھے۔
کاسٹنگ کا عمل کیوں منفرد تھا
پینی مارشل کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم آج بھی اسپورٹس کامیڈی کا ایک معیار سمجھی جاتی ہے۔ پیٹی کے مطابق، اے لیگ آف دیئر اون کے آڈیشنز اس لیے منفرد تھے کیونکہ کاسٹ کے حتمی انتخاب سے پہلے ہی اداکاروں کے درمیان ایک تعلق بننا شروع ہو گیا تھا۔ یہ عام اسٹوڈیو فلموں سے مختلف تھا جہاں اداکار تنہائی میں آڈیشن دیتے ہیں۔
کلاسک سنیما کے شائقین کے لیے، یہ فلم اداکاری کے بہترین نمونوں میں سے ایک ہے۔ پیٹی کے حالیہ تبصرے اس بات کی جھلک پیش کرتے ہیں کہ کس طرح اس سخت آڈیشن کے ذریعے اداکاروں کے درمیان کیمسٹری پیدا کی گئی۔ یہ صرف ڈائیلاگ بولنے کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ بیس بال کے میدان میں اپنی ہمت دکھانے کے بارے میں تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
جیسے جیسے ہالی ووڈ 90 کی دہائی کی کلاسک فلموں کو ریبوٹس اور سالگرہ کی تقریبات کے ذریعے دوبارہ یاد کر رہا ہے، پیٹی جیسی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ایک یادگار فلم بنانے کے لیے کتنی محنت درکار ہوتی ہے۔ اگر آپ اسپورٹس ڈراموں یا 90 کی دہائی کی یادوں کے شوقین ہیں، تو پردے کے پیچھے کی یہ تفصیلات آپ کو فلم کی اہمیت کا نیا احساس دلائیں گی۔ آنے والے دنوں میں فلم کی دیگر کاسٹ کے انٹرویوز پر نظر رکھیں جو تین دہائیوں بعد بھی اس فلم کی میراث پر گفتگو کر رہے ہیں۔
