مملکت میں مقیم غیر ملکی اب حکومت کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے گم شدہ اقامہ کی رپورٹنگ کا عمل آن لائن مکمل کر سکتے ہیں، جس سے پولیس اسٹیشنوں کے طویل چکر لگانے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ ریاض، جدہ، اور دمام سمیت مختلف سعودی شہروں میں مقیم لاکھوں پاکستانی کارکنوں کے لیے ریزیڈنسی پرمٹ گم ہونے کی صورت میں روایتی طریقہ کار کافی پیچیدہ تھا۔ اس ڈیجیٹل تبدیلی سے غیر ملکی شہریوں کے لیے اپنی بنیادی شناختی دستاویزات گم ہونے پر طریقہ کار آسان ہو گیا ہے۔ اب قطاروں میں کھڑے ہونے کے بجائے، شہری بغیر کسی تاخیر کے نیا ریزیڈنسی کارڈ حاصل کرنے کے لیے آن لائن عمل شروع کر سکتے ہیں۔
گم شدہ اقامہ کی رپورٹنگ کے ڈیجیٹل مراحل
اس اپ ڈیٹ کے ذریعے اقامہ گم ہونے کی رپورٹنگ کا نظام وزارت داخلہ کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے براہ راست منسلک کر دیا گیا ہے۔ جب کسی کارکن کو معلوم ہو کہ اس کا ریزیڈنسی پرمٹ گم ہو گیا ہے، تو اسے سب سے پہلے کسی جسمانی تھانے میں جا کر دستی کاغذی رپورٹ درج کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اس عمل کو سرکاری پورٹل absher.sa کے ذریعے مینیج کر سکتے ہیں۔ اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں لاگ ان کریں، غیر ملکی شہریوں کے لیے مخصوص سول افیئرز یا ریزیڈنسی سروسز کے سیکشن میں جائیں، گم شدہ شناختی کارڈ کی رپورٹنگ کا ڈیجیٹل آپشن منتخب کریں، اور اپنی تفصیلات کی تصدیق کر کے الیکٹرانک نوٹیفکیشن جمع کرا دیں۔ آپ اپنے منسلک بینک اکاؤنٹ کے ذریعے آن لائن فیس بھی ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستانی کارکنوں کے لیے سہولت
سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی پاکستانی تارکین وطن کمیونٹی بستی ہے، جن کے لاکھوں افراد لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں ترسیلات زر بھیجتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں تعمیراتی اور کارپوریٹ شعبوں میں کام کے دوران کاغذی کارروائی کے مسائل اکثر پیش آتے ہیں۔ پہلے شناختی کارڈ گم ہونے پر جرمانے یا اسپانسر کے ساتھ تنازعات کا خطرہ رہتا تھا۔ یہ خودکار نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ فوری طور پر ایک ٹائم اسٹیمپ والا ڈیجیٹل ریکارڈ بن جائے، جو کارکنوں کو قانونی پیچیدگیوں سے بچاتا ہے۔
آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے
اگر آپ اس وقت مملکت میں مقیم ہیں اور آپ کو شبہ ہے کہ آپ کا ریزیڈنسی کارڈ گم یا چوری ہو گیا ہے، تو فوری طور پر اپنے اکاؤنٹ کی رسائی چیک کریں۔ یقینی بنائیں کہ آپ کے پروفائل سے منسلک موبائل نمبر فعال ہے، کیونکہ کسی بھی ڈیجیٹل درخواست کو حتمی شکل دینے کے لیے تصدیقی کوڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔
کن باتوں کا خیال رکھیں
کارڈ کی تبدیلی کے لیے فیس کے ڈھانچے کے حوالے سے پاسپورٹ کے محکمے کے باضابطہ اعلانات پر نظر رکھیں۔ جعلی ویب سائٹس اکثر سرکاری پورٹلز کی نقل کرتی ہیں، اس لیے ذاتی ڈیٹا درج کرنے سے پہلے ہمیشہ تصدیق کریں کہ آپ سرکاری ڈومین استعمال کر رہے ہیں۔
