مہاراشٹر حکومت نے ممبئی کے مشہور سدھی ونائک مندر کے نذرانہ گھپلہ معاملے میں سخت کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ڈونیشن پیٹی میں آنے والی نقد رقم اور قیمتی زیورات کا مکمل آڈٹ کرانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی جانب سے یہ احکامات سامنے آئے ہیں جن کا مقصد مندر کے مالیاتی امور میں شفافیت لانا اور دیالو عقیدت مندوں کی طرف سے دیے گئے تفت کی حفاظت کرنا ہے۔

سدھی ونائک مندر آڈٹ کے احکامات کیوں جاری ہوئے؟

گزشتہ کچھ عرصے سے مندر کے مالیاتی انتظام اور نذرانوں کے ریکارڈ کو لے کر مختلف قسم کے سوالات اٹھ رہے تھے۔ عقیدت مند ملک بھر سے اس تاریخی مقام پر لاکھوں روپے نقدی، سونا اور چاندی نذرانے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حکام کو شک تھا کہ چند سالوں کے دوران آنے والے ان قیمتی نذرانوں کے اندراج میں بے قاعدگیاں ہو سکتی ہیں۔ اس شک کی بنیاد پر ریاستی حکومت نے فوری طور پر پچھلے پانچ سال کا تمام ریکارڈ کھنگالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آڈٹ کے دائرہ کار میں کیا کچھ شامل ہوگا؟

اس جامع جانچ پڑتال کے دوران درج ذیل امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا:

  • گزشتہ پانچ برسوں میں دان پیٹی سے نکلنے والی کل نقد رقم کا حساب کتاب۔
  • عقیدت مندوں کی جانب سے عطیہ کیے گئے سونے، چاندی اور دیگر قیمتی زیورات کا وزن اور مالیت۔
  • مندر ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹس میں جمع ہونے والی رقوم کے ریکارڈ کی تصدیق۔
  • نذرانوں کی وصولی اور اندراج کے عمل میں شامل ذمہ داران کے کردار کی جانچ۔

قارئین کے لیے اہم معلومات

اگرچہ یہ خبر براہ راست پاکستان کے مالیاتی نظام سے وابستہ نہیں ہے، لیکن یہ جنوبی ایشیا میں مذہبی مقامات اور ٹرسٹ کے مالیاتی معاملات میں شفافیت کے حوالے سے ایک اہم مثال ہے۔ پاکستان کے اندر بھی جب مساجد، درگاہوں یا فلاحی ٹرسٹ کے عطیات کی بات آتی ہے، تو عام شہریوں اور ڈونرز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہمیشہ رجسٹرڈ اور شفاف اداروں کی ہی معاونت کریں تاکہ کسی بھی قسم کے غبن سے بچا جا سکے۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

آڈٹ ٹیمیں آنے والے دنوں میں اپنی رپورٹ مرتب کریں گی جسے مہاراشٹر حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس تحقیقات کے نتیجے میں نہ صرف ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی متوقع ہے بلکہ مستقبل کے لیے عطیات کے جمع کرنے کے نظام کو مزید سخت اور شفاف بنایا جائے گا۔ ہم اس معاملے پر مزید اپ ڈیٹس کے ساتھ آپ کو آگاہ کرتے رہیں گے۔