مکہ اور مدینہ باضابطہ طور پر 2025 میں دنیا کے 10 سب سے زیادہ دیکھے جانے والے شہروں میں شامل ہو گئے ہیں، جو مذہبی سیاحت کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ یہ عالمی درجہ بندی ان بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کی عکاسی کرتی ہے جو سعودی عرب نے دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی سہولت کے لیے کی ہے۔
عالمی سیاحتی مرکز کے طور پر مکہ اور مدینہ کا عروج
پاکستانی زائرین کے لیے، مکہ اور مدینہ موسٹ وزٹڈ سٹیز (سب سے زیادہ دیکھے جانے والے شہر) کا درجہ سعودی وژن 2030 کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ویزا کے عمل کو آسان بنانے اور ٹرانزٹ سہولیات کو جدید بنانے کے اقدامات نے زائرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے جدہ اور مدینہ کے لیے پروازوں کی تعداد میں اضافے نے بھی اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب یہ دونوں شہر عالمی سیاحتی نقشے پر اپنی ایک منفرد پہچان بنا چکے ہیں۔
زائرین کے لیے اہم تجاویز
اگر آپ سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، تو سیاحوں کے رش کے پیش نظر اپنی بکنگ پہلے سے مکمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ 2025 کے دوران زائرین کی بڑی تعداد کے پیش نظر ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کی پیشگی بکنگ آپ کے سفر کو آسان بنا سکتی ہے۔
- ویزا اور اجازت نامے: روضہ رسول ﷺ اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے نسک (Nusuk) ایپ کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
- سفری منصوبہ بندی: اپنے ٹریول ایجنٹ کے ساتھ مشورہ کریں تاکہ رش کے اوقات سے بچا جا سکے۔
- ڈیجیٹل سہولیات: سعودی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ڈیجیٹل ایپس کا استعمال لازمی بنائیں۔
مستقبل کا منظرنامہ
سعودی عرب کی جانب سے 'حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے' کو مزید وسعت دی جا رہی ہے جس سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کا وقت مزید کم ہو جائے گا۔ پاکستانی زائرین کے لیے یہ ایک بڑی سہولت ہے۔
مستقبل میں زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے کے لیے سعودی حکومت مزید ڈیجیٹل اصلاحات لا رہی ہے۔ پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حج و عمرہ کی وزارت کے آفیشل پورٹلز سے تازہ ترین ہدایات حاصل کرتے رہیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
