ملائেশیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک نوعمر لڑکے پر اسکول کی ایک طالبہ کو قتل کرنے کا الزام ہے جس کا مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور ہائی پروفائل قانونی معاملہ ہے جس نے بچوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس عدالت کارروائی نے بین الاقوامی سطح پر ماہرین تعلیم اور والدین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔
اگرچہ اس نوعیت کے مقدمات اکثر مقامی سطح پر رہتے ہیں، لیکن اس واقعے نے دنیا بھر میں گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ پاکستان سمیت مختلف خطہوں کے ماہرین نفسیات اور اسکول کے منتظمین اس کیس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ عدالت سے تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات پر شدید بحث چھیڑ دی ہے کہ کس طرح غیر مانیٹرڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نوعمر بچوں کے رویوں اور ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور خطرات
کوالالمپور میں تفتیش کاروں اور مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آن لائن پذیرائی کا دباؤ اور سائبر ہراسانی اکثر اسکولوں میں پرتشدد رویوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ملائেশیا میں اسکول قتل کا یہ مقدمہ جب خبروں کی زینت بنتا ہے تو یہ نظام کی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے کہ کس طرح تعلیمی ادارے طلباء کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ سکرین ٹائم اور ذہنی دباؤ کے حوالے سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان میں بھی جہاں نوعمر بچوں میں اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اساتذہ اکثر اسی نوعیت کے رویوں میں تبدیلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ پرتشدد مواد اور سوشل میڈیا کے الگورتھمز کم عمر بچوں کی سوچ کو مسخ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل استعمال کی نگرانی اب والدین کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔
والدین اور اساتذہ کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں
اس قسم کے بین الاقوامی سانحات سے سبق سیکھتے ہوئے والدین اور تعلیمی اداروں کو درج ذیل اقدامات پر غور کرنا چاہیے:
- بچوں کے روزانہ سکرین ٹائم کی نگرانی کریں اور غیر منظم سوشل میڈیا ایپس تک رسائی محدود کریں۔
- گھروں میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں بچے سائبر بلیئنگ کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں۔
- اسکولوں میں ذہنی صحت کے سیشنز کا انعقاد کریں تاکہ جارحانہ رویوں کی بروقت شناخت کی جا سکے۔
- طلباء کو محفوظ آن لائن رویوں سے روشناس کرانے کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام شروع کریں۔
آئندہ کے لیے لائحہ عمل
جیسے جیسے ملائেশیا میں قانونی کارروائی آگے بڑھ رہی ہے، دنیا بھر کے قانون ساز ٹیکنالوجی کمپنیوں پر کڑی پابندیاں عائد کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اس مقدمے کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نابالغوں کے جرائم کے حوالے سے کتنا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ اس وقت معاشرے کو اس واقعے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
