مردان پولیس نے یکم جنوری 2025 سے 31 جولائی 2025 کے دوران ضلع بھر میں بچوں کے خلاف جرم کے 70 مقدمات درج کیے ہیں، جب کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان مقدمات میں نامزد تمام ملزمان کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ مردان کے رہائشیوں اور مقامی خاندانوں کے لیے یہ اعداد و شمار بچوں کے تحفظ سے متعلق شدید خدشات کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم تمام ملزمان کی گرفتاری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیمیں عدالتوں سے سخت سزاؤں کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
مردان کرائم ڈیٹا کی تفصیلات
سال کے پہلے سات ماہ یعنی یکم جنوری 2025 سے 31 جولائی 2025 کے دوران سامنے آنے والے ان مقدمات میں بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ضلعی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ان 70 مقدمات میں جن ملزمان کے نام شامل تھے، ان سب کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ معاشرتی دباؤ کی وجہ سے بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ مردان میں 70 باضابطہ مقدمات کا درج ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یا تو رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے یا پھر نابالغوں کے خلاف جرم کی شرح میں تیزی آئی ہے۔
شہریوں اور والدین کے لیے ہدایات
اگر آپ مردان یا خیبر پختونخوا کے کسی بھی علاقے میں مقیم ہیں، تو بچوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں تاکہ وہ کسی بھی مشکوک صورتحال کے بارے میں آپ کو فوری طور پر آگاہ کر سکیں۔
- بچوں کے تحفظ کے لیے قائم قومی ہیلپ لائن نمبر 1121 اپنے موبائل پر محفوظ رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں رابطہ کیا جا سکے۔
- بچوں کے ساتھ کسی بھی مشکوک رویے یا واقعے کی اطلاع فوری طور پر قریبی مردان پولیس اسٹیشن یا ایمرجنسی ہیلپ لائن پر دیں۔
- مردان کی عدالتوں میں ان 70 گرفتار ملزمان کے خلاف چلنے والے مقدمات کی پیش رفت پر نظر رکھیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
آنے والے ہفتوں میں مردان کے عدالتی نظام کا امتحان ہوگا کہ وہ ان 70 گرفتار ملزمان کے خلاف کتنی جلدی کارروائی مکمل کرتا ہے۔ قانونی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ چالان کب عدالتوں میں پیش کیے جاتے ہیں اور پولیس کی گرفتاریوں کے بعد سزاؤں کا عمل کتنی تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔ ڈی پی او مردان کی جانب سے اس حوالے سے مزید بیانات اور عدلتی کارروائی کی خبروں پر نظر رکھیے۔
