وفاقی وزیر برائے سمندری امور محمد جنید انور چوہدری نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کی ساحلی پالیسی میں مقامی آبادیوں کے روایتی ماحولیاتی علم کو باضابطہ حیثیت دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ساحل پر بسنے والے لوگوں کا صدیوں پرانا تجربہ موسمیاتی تبدیلیوں اور سمندری کٹاؤ کے خلاف ڈھال بن سکتا ہے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ coastal policy in pakistan کو بہتر بنانے کے لیے ان لوگوں کی رائے کو شامل کرنا ناگزیر ہے جو نسلوں سے سمندر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ مقامی لوگ مینگرووز کے تحفظ اور سمندری پانی کی سطح میں اضافے سے نمٹنے کے لیے ایسے طریقے جانتے ہیں جو جدید انجینئرنگ کے ماڈلز میں اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
ساحلی پالیسی میں روایتی علم کی اہمیت
ٹھٹھہ، بدین اور گوادر جیسے اضلاع کے مکینوں نے برسوں سے سمندری پانی کے بہاؤ اور ساحلی زمینوں کی حفاظت کے لیے مقامی طریقے اپنا رکھے ہیں۔ ان طریقوں کو قومی حکمت عملی میں شامل کرنے سے درج ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:
- مقامی سطح پر نکاسی آب کے بہتر نظام کی تشکیل۔
- مینگرووز کے جنگلات کا مؤثر تحفظ۔
- ساحلی بستیوں کے لیے ہنگامی صورتحال میں بہتر منصوبہ بندی۔
مقامی علم کو پالیسی کا حصہ بنانے کا مقصد صرف ماحولیاتی تحفظ نہیں بلکہ ان لاکھوں لوگوں کے روزگار کو بچانا ہے جن کا انحصار سمندر پر ہے۔
پالیسی سازی میں خلیج کو ختم کرنا
وزیر سمندری امور نے نشاندہی کی کہ ماضی میں ساحلی ترقیاتی فیصلے بڑے شہروں میں بیٹھ کر کیے جاتے رہے ہیں، جس سے ساحل پر بسنے والوں کے حقیقی مسائل اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی سازی کے عمل میں مقامی عمائدین اور ماہی گیروں کو شامل کیا جائے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔
آگے کیا ہوگا؟
وزارت سمندری امور کی جانب سے جلد ہی اس مشاورتی عمل کی تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اگر آپ ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں، تو وزارت کی جانب سے ہونے والی عوامی سماعتوں اور کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگراموں پر نظر رکھیں۔ اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا حکومت ان منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کرتی ہے یا نہیں۔
