عالمی سنیما کے ایک بڑے نام اور ’آن گولڈن پونڈ‘ کے ہدایت کار مارک رائیڈل 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی وفات کی تصدیق ان کی بیٹی ایمی رائیڈل نے کی ہے۔ مارک رائیڈل کا شمار ہالی ووڈ کے ان ہدایت کاروں میں ہوتا تھا جو اداکاروں سے بہترین اور جذباتی کارکردگی نکلوانے میں مہارت رکھتے تھے۔
مارک رائیڈل کا فلمی سفر
مارک رائیڈل نے 1960 کی دہائی کے آخر میں اپنے ہدایت کاری کے سفر کا آغاز کیا، لیکن انہیں عالمی شہرت 1981 کی فلم ’آن گولڈن پونڈ‘ سے ملی۔ اس فلم نے انہیں بہترین ہدایت کار کے لیے اکیڈمی ایوارڈ (آسکر) کی نامزدگی دلائی۔ یہ فلم آج بھی دنیا بھر کے سنیما شائقین کے لیے ایک شاہکار سمجھی جاتی ہے جس میں ہینری فونڈا اور کیتھرین ہیپ برن نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔
اس سے قبل، انہوں نے 1979 میں میوزیکل ڈرامہ ’دی روز‘ کی ہدایت کاری کی تھی، جس میں بیٹ مڈلر کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا تھا۔ یہ فلم رائیڈل کی ورسٹائل صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھی کہ وہ کس طرح موسیقی اور ڈرامے کو ایک ساتھ مہارت سے پیش کر سکتے تھے۔
سنیما پر ان کے اثرات
پاکستان میں فلم سازی کے طالب علموں اور ہدایت کاری میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مارک رائیڈل کا کام ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ کہانی اور کرداروں کی گہرائی کو ترجیح دی۔ ان کی فلموں میں جذبات کی عکاسی جس طرح کی گئی، وہ آج کے دور کے ہدایت کاروں کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ اگر آپ ان کے کام کو دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں تو مختلف اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ان کی یہ کلاسیکی فلمیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
مارک رائیڈل کے انتقال پر دنیا بھر کے فلمی حلقوں میں دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں مختلف عالمی میڈیا نیٹ ورکس ان کی زندگی اور فلمی خدمات پر دستاویزی پروگرام اور ریٹرو اسپیکٹوز پیش کریں گے۔ شائقین کے لیے ان کی فلمیں دیکھنا ہی انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
