مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما مریم اورنگزیب نے انتخابی دھاندلی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب حریف جماعتیں ہارنے لگتی ہیں تو فوراً دھاندلی کا شور مچا دیتی ہیں۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شفاف انتخابی عمل پر بے بنیاد انگلیاں اٹھانا مخالفین کی پرانی عادت بن چکی ہے۔ ان کے یہ بیانات حالیہ سیاسی کشیدگی اور ووٹوں کی گنتی کے دوران ہونے والے تنازعات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی رساہشی کے دوران کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نتائج کے اعلان کے وقت پولنگ اسٹیشنوں کے باہر سیاسی کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی اور جھگڑے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ ایک ایسے ہی واقعے کے دوران ایک بزرگ شہری کو دل کا دورہ پڑا، جن کی حالت غیر ہوگئی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اور دیگر حلقوں نے اس طبی ہنگامی صورتحال کو فائرنگ کا واقعہ رنگ دینے کی کوشش کی تاکہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

انتخابی نتائج اور سیاسی کشمکش

حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شکست کا خوف مخالفین کو اس قسم کے الزامات لگانے پر مجبور کرتا ہے۔ مریم اورنگزیب کا موقف تھا کہ جب بھی عوامی مینڈیٹ کسی دوسری جماعت کے حق میں آتا ہے، ہارنے والے فریقین عمل کی ساکھ پر سوالات اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار عام شہری ان سیاسی رسہ کشی اور دنگے فساد سے پہلے ہی عاجز آ چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس مسلسل محاذ آرائی سے ملک میں پولرائزیشن بڑھتی ہے اور عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نتائج مرتب کرنے والے دفاتر کے باہر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ اگر آپ بڑے انتظامی مراکز یا سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے قریب رہتے ہیں تو آنے والے دنوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات رہنے کی توقع رکھیے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستے استعمال کریں۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے

  • انتخابی دفاتر اور سیاسی پارٹیوں کے سیکریٹریٹس کے گردونواح میں غیر ضروری جانے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچ سکیں۔
  • سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ ویڈیوز اور افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے مستند خبروں پر انحصار کریں۔
  • اگر آپ شہر کے مرکزی علاقوں میں سفر کرتے ہیں تو اپنے سفر کے اوقات کار لچکدار رکھیں تاکہ ٹریفک جام سے محفوظ رہیں۔

آگے کیا دیکھنے کو ملے گا

آنے والے ہفتوں میں اس بات پر گہری نظر رکھیے کہ الیکشن ٹریبونلز نالان امیدواروں کی طرف سے دائر کردہ شکایات پر کیا فیصلے صادر کرتے ہیں۔ پولنگ کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور طبی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے سرکاری تحقیقاتی رپورٹس بھی حقائق سامنے لائیں گی۔ پارلیمانی اجلاسوں سے پہلے سیاسی بیانات میں تیزی آنے کے امکانات ہیں، اس لیے سیاسی اتحادوں کی سمت پر نظر رکھنا نہایت اہم ہوگا۔