پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں واضح کیا ہے کہ حقیقی تعلیم صرف کتابیں پڑھنے کا نام نہیں بلکہ عملی فن اور ہنر سیکھنا ہے۔ انہوں نے 8 ستمبر کو عالمی یوم خواندگی کے موقع پر اساتذہ کرام کو سلام پیش کیا اور علم کی جستجو رکھنے والے نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تعلیمی پالیسی پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ، مریم نواز نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو کی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں کسی بھی قسم کے اختلافات یا تقسیم کی افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا۔

وزیراعلیٰ کے خطاب کے اہم نکات

- ہنر مند تعلیم پر توجہ: خواندگی کی تعریف اب صرف لکھنے پڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں ٹیکنالوجی اور فنی مہارت کا شامل ہونا ضروری ہے۔
- اساتذہ کو خراجِ تحسین: پنجاب بھر کے تعلیمی عملے اور اساتذہ کی خدمات کا اعتراف۔
- پارٹی اتحاد کا دعویٰ: مسلم لیگ (ن) میں فارورڈ بلاک یا کسی بھی قسم کی تقسیم کی خبروں کی تردید۔
- پنجاب ماڈل کی پیروی کا مشورہ: دیگر صوبوں کو بھی پنجاب کی طرح عوام کی خدمت اور ترقیاتی کاموں پر توجہ دینے کی تاکید۔

تعلیم کا نیا تصور: ہنر اور مریم نواز کا وژن

عالمی یوم خواندگی کے موقع پر اپنے بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب نے تعلیم کے روایتی نظام میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف ڈگری حاصل کر لینا کافی نہیں ہے جب تک نوجوانوں کے پاس کوئی عملی ہنر نہ ہو۔ پنجاب حکومت کا مقصد صوبے کے تعلیمی نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے، جس میں آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ووکیشنل ٹریننگ کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔

اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صوبائی حکومت ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (TEVTA) کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ نوجوانوں کو ایسے کورسز کروائے جائیں جن کی مدد سے وہ براہِ راست روزگار حاصل کر سکیں اور ملک میں بے روزگاری کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔

وزیراعلیٰ کا غیر روایتی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنا ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو اسکول سے باہر بچوں کے سنگین بحران کا سامنا ہے، جہاں لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی نظام میں ہنر کی تربیت کو شامل کرکے، پنجاب حکومت غریب خاندانوں کے لیے تعلیم کو زیادہ پرکشش اور معاشی طور پر فائدہ مند بنانا چاہتی ہے۔

مزید برآں، انہوں نے اساتذہ کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ صوبائی حکومت اساتذہ کی تربیت کے پروگراموں کو بہتر بنائے گی تاکہ اساتذہ جدید تدریسی طریقوں اور ڈیجیٹل خواندگی سے واقف ہو سکیں۔ اس منصوبے میں سرکاری اسکولوں میں اسمارٹ کلاس رومز کا قیام اور لاہور، فیصل آباد، ملتان اور دیگر بڑے اضلاع کے ہائی اسکولوں میں آئی ٹی لیبز کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔

مسلم لیگ (ن) میں تقسیم کی افواہوں کی تردید

سیاسی محاذ پر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کے اندرونی معاملات کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر خاموشی توڑی۔ انہوں نے میڈیا اور اپوزیشن کی جانب سے پارٹی میں دھڑے بندی کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی قیادت میں مکمل متحد ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین حکومت کی معاشی کامیابیوں اور عوامی ریلیف کے اقدامات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی قیادت ملکی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک پیج پر ہے۔

مریم نواز کا یہ بیان اسلام آباد اور لاہور میں آئینی ترامیم اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر مبینہ اختلافات کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان افواہوں کا جواب دے کر وہ ملکی سیاسی اتحادیوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو استحکام کا پیغام دینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ پارٹی کی تمام تر توجہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔

دیگر صوبوں کو پنجاب ماڈل اپنانے کا مشورہ

مریم نواز نے دوسرے صوبوں کی حکومتوں پر بھی زور دیا کہ وہ عوام کی خدمت کے لیے محنت کریں۔ انہوں نے پنجاب میں بجلی کے بلوں میں ریلیف اور صحت کے شعبے میں جاری منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے عوام بھی اسی معیار کی سہولیات کے حقدار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاست چمکانے کے بجائے اب عملی کام کرنے کا وقت ہے۔ تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے، اسکولوں کی حالت بہتر بنانے اور ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے دن رات کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کے لیے انتھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور جو لوگ پارٹی کی ناکامی کی دعائیں کر رہے ہیں، انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

قارئین کے لیے اہم معلومات اور مستقبل کا منظرنامہ

پنجاب کے طلبہ، والدین اور ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ حکومت کے آنے والے آئی ٹی اور ٹیکنیکل کورسز پر نظر رکھیں۔ پنجاب حکومت جلد ہی نوجوانوں کے لیے بلاسود قرضے اور ڈیجیٹل اسکلز کے نئے پروگرامز شروع کرنے جا رہی ہے۔ آپ ان اپڈیٹس کے لیے ٹیوٹا (TEVTA) اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کی ویب سائٹس وزٹ کر سکتے ہیں۔

سیاسی منظرنامے پر نظر رکھنے والوں کو اب یہ دیکھنا ہوگا کہ اپوزیشن مریم نواز کے اس دعوے پر کیا ردعمل دیتی ہے۔ مزید برآں، یہ بھی دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں بھی پنجاب کی طرز پر اپنے شہریوں کو بجلی اور صحت کے شعبوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہیں یا نہیں۔