پاکستان بھر کے والدین اس وقت تشویش کا شکار ہیں اور یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ان کے بچوں کا پسندیدہ ترین شو یوکرین کی جانب سے عائد کردہ masha and the bear ban (ماشا اینڈ دی بیئر پر پابندی) کے بعد بند ہونے والا ہے؟ روس کا تیار کردہ یہ کارٹون، جسے یوٹیوب پر اب تک 37 ارب سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے، کراچی سے لے کر لاہور تک تقریباً ہر گھر میں بچوں کی پہلی پسند ہے۔

یوکرینی حکام نے حال ہی میں اس اینیمیٹڈ سیریز کے پروڈیوسرز اور تقسیم کاروں پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ کیف کا دعویٰ ہے کہ یہ کارٹون روس کے حق میں نرم گوشہ پیدا کرنے اور پروپیگنڈا پھیلانے کا ایک ذریعہ ہے، جس کا مقصد دنیا بھر کے بچوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہونا ہے۔ چونکہ پاکستان میں لاکھوں بچے اس شرارتی لڑکی اور اس کے رکھوالے ریچھ کی کہانیوں کے دیوانے ہیں، اس لیے مقامی خاندان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ان کے بچوں کا پسندیدہ کارٹون اب دستیاب رہے گا یا نہیں۔

اس صورتحال کے حوالے سے اہم ترین حقائق درج ذیل ہیں:

  • پابندی کی وجہ: یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل نے کارٹون بنانے والی کمپنی اور تقسیم کاروں کو باضابطہ طور پر بلیک لسٹ کر دیا ہے۔
  • الزام: یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارٹون روسی بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
  • عالمی مقبولیت: یہ شو دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا بچوں کا پروگرام ہے، جس کے یوٹیوب پر 37 ارب سے زائد ویوز ہیں۔
  • پاکستان میں صورتحال: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) یا کسی بھی دوسرے مقامی ادارے نے اس کارٹون پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔

یوکرین نے روسی کارٹون کو نشانہ کیوں بنایا؟

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ڈیجیٹل اور ثقافتی محاذ پر بھی پھیل چکی ہے۔ یوکرینی تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ "ماشا اینڈ دی بیئر" جتنا معصوم نظر آتا ہے، حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق، کارٹون میں دکھایا گیا طاقتور، صابر اور مددگار ریچھ دراصل روس کی علامت ہے، جبکہ ماشا ایک ایسی شرارتی قوت ہے جسے سب برداشت کرتے ہیں اور آخر کار اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔

اس کارٹون کو بنانے والی کمپنی 'اینیم اکارڈ' کو بلیک لسٹ کر کے یوکرین کا مقصد روسی ثقافتی مصنوعات کی عالمی رسائی کو روکنا اور ان کی آمدنی کے ذرائع کو بند کرنا ہے۔ تاہم، چونکہ اس کمپنی کے بین الاقوامی دفاتر قبرص اور امریکہ میں بھی موجود ہیں، اس لیے اس پر مکمل عالمی پابندی لگانا ممکن نہیں ہے۔

کیا اس پابندی کا اثر پاکستان پر پڑے گا؟

اس کا سادہ اور واضح جواب ہے "جی نہیں"۔ اگر آپ کے بچے پاکستان میں یوٹیوب، نیٹ فلکس یا مقامی کیبل نیٹ ورکس پر یہ کارٹون دیکھتے ہیں، تو آپ کو پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔

یوکرین کی جانب سے لگائی گئی یہ پابندی صرف اس کے اپنے ملک کی حد تک محدود ہے۔ یہ گوگل (یوٹیوب کی مالک کمپنی) یا نیٹ فلکس کو مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ پاکستان جیسے دیگر آزاد ممالک میں اس مواد کو بلاک کریں۔ پی ٹی اے پاکستان میں صرف اسی صورت میں کسی ڈیجیٹل مواد پر پابندی لگاتا ہے جب وہ ملکی قوانین، مذہبی اقدار یا قومی سلامتی کے خلاف ہو۔ دو یورپی ممالک کے درمیان سیاسی تنازع پاکستان میں کسی پابندی کی وجہ نہیں بن سکتا۔

مزید برآں، پاکستانی کیبل آپریٹرز کو کارٹونز کی نشریات علاقائی دفاتر (زیادہ تر دبئی یا سنگاپور) سے ملتی ہیں، جن پر یوکرینی قوانین کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

پاکستانی والدین کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگرچہ یہ کارٹون پاکستان میں مکمل طور پر دستیاب ہے، لیکن اس بین الاقوامی تنازع نے والدین کو اپنے بچوں کی سکرین ٹائم اور ڈیجیٹل عادات پر نظر ثانی کرنے کا ایک اچھا موقع دیا ہے۔

  • یوٹیوب کڈز کا استعمال کریں: عام یوٹیوب ایپ کے بجائے 'یوٹیوب کڈز' ایپ استعمال کریں۔ اس سے آپ غیر مناسب چینلز کو بلاک کر سکتے ہیں اور صرف اپنی پسند کی پلے لسٹ بچوں کو دکھا سکتے ہیں۔
  • مقامی مواد کو فروغ دیں: بچوں کو اردو زبان میں بنے معلوماتی کارٹونز جیسے "قائد سے باتیں" یا "جان" دیکھنے کی عادت ڈالیں، جو ہماری اپنی ثقافتی اور اخلاقی اقدار کے مطابق ہیں۔
  • بچوں سے بات کریں: اگر بڑے بچے انٹرنیٹ پر اس پابندی کے بارے میں سنیں، تو انہیں آسان الفاظ میں سمجھائیں کہ ممالک کے درمیان اختلافات ہوتے رہتے ہیں، لیکن ان کے پسندیدہ کارٹون محفوظ ہیں۔

آنے والے دنوں میں کیا متوقع ہے؟

اس بات پر نظر رکھنا ضروری ہے کہ عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اس سیاسی دباؤ پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ اگرچہ گوگل نے اب تک اس کارٹون کو عالمی سطح پر ہٹانے سے انکار کیا ہے، لیکن اگر مستقبل میں روس پر بین الاقوامی پابندیاں مزید سخت ہوئیں تو روسی مواد سے کمائی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں نئے ایپیسوڈز کی تیاری سست ہو سکتی ہے، لیکن فی الحال ماشا اور ریچھ آپ کی اسکرینوں پر موجود رہیں گے۔