اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) کے ایم ڈی کے پاکستانی شہری نہ ہونے کا انکشاف سینیٹ میں ایک بڑی بحث کا باعث بن گیا ہے۔ جمعرات 23 مئی 2024 کو سینیٹ کی ایک کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر ایمل ولی خان نے یہ تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے موجودہ مینیجنگ ڈائریکٹر کے پاس پاکستانی قومی شناختی کارڈ موجود نہیں ہے اور وہ برطانوی شہریت کے حامل ہیں۔
ایم ڈی او پی ایف کی شہریت پر سوالات
اوورسیز پاکستانیوں کے فلاحی ادارے کے سربراہ کے طور پر ایک غیر ملکی شہری کی تقرری نے حکومتی تقرریوں کے معیار اور جانچ پڑتال کے عمل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے اس بات پر زور دیا کہ جس ادارے کا کام بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا ہے، اس کے سربراہ کے پاس خود پاکستان کی شہریت کا نہ ہونا انتظامی بدانتظامی کی ایک بڑی مثال ہے۔ عوام اب یہ پوچھ رہے ہیں کہ ایک حساس عہدے پر اس تقرری کو کس طرح منظوری دی گئی۔
سمندر پار پاکستانیوں پر اثرات
دنیا بھر میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن ایک اہم ادارہ ہے جو تعلیم، رہائش اور قانونی مدد فراہم کرتا ہے۔ اس ادارے کی قیادت کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کیا ادارہ جاتی فیصلے پاکستان کے مفاد میں لیے جا رہے ہیں یا نہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں اور OPF کی خدمات حاصل کر رہے ہیں، تو ادارے کی آفیشل ویب سائٹ opf.org.pk پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ سینیٹ اس معاملے پر باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کرے گی۔ اگر آپ کا کوئی کیس یا ہاؤسنگ پروجیکٹ زیر التوا ہے، تو اپنے تمام تر دستاویزات محفوظ رکھیں اور خبروں پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی انتظامی تبدیلی کے اثرات سے باخبر رہ سکیں۔
آگے کیا ہوگا؟
سینیٹ کی کمیٹی اب وزارتِ اوورسیز پاکستانیز سے اس تقرری کے طریقہ کار پر تفصیلی رپورٹ طلب کرے گی۔ آنے والے سیشنز میں حکومت پر دباؤ ہوگا کہ وہ یہ واضح کرے کہ کن قوانین کے تحت ایک غیر ملکی شہری کو اس بڑے سرکاری ادارے کا سربراہ بنایا گیا۔ اپوزیشن اس معاملے پر مزید سخت موقف اپنانے کے لیے تیار ہے۔
