ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے باضابطہ طور پر وضاحت کی ہے کہ حال ہی میں طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کسی بھی صورت میں ایران کو نشانہ بنانے یا اسے ختم کرنے کے لیے نہیں ہے۔ 9 اگست 2026 کو اپنے ایک بیان میں ترک وزیر خارجہ نے اس نئے سکیورٹی فریم ورک کے گرد پھیلنے والی تشویش کو کم کرنے کی کوشش کی، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی ایک مشترکہ فوجی اور اسٹریٹجک اتحاد کے تحت اکٹھے ہوئے ہیں۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کی حقیقت
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ اپنے آغاز سے ہی مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں قیاس آرائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اگرچہ ناقدین اور تجزیہ کاروں کو خدشہ تھا کہ یہ معاہدہ تہران کے خلاف محاذ آرائی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، لیکن فیدان کا بیان اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے ہے۔ یہ معاہدہ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت ہے، جس کا مقصد بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات میں مشترکہ سکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان کے لیے اس وضاحت کی اہمیت
پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں توازن برقرار رکھنا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ حکومتِ پاکستان اکثر یہ اعادہ کرتی رہی ہے کہ وہ علاقائی تنازعات میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہتی ہے۔ یہ واضح کر کے کہ یہ معاہدہ کسی پڑوسی ملک کے خلاف نہیں ہے، ترکی نے پاکستان کو اس سکیورٹی انتظام میں حصہ لینے کے لیے سیاسی گنجائش فراہم کی ہے تاکہ تہران کے ساتھ تعلقات متاثر نہ ہوں۔
- اس معاہدے کا مرکز باہمی تعاون اور مشترکہ فوجی تربیت ہے۔
- اس کا مقصد سمندری سلامتی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنانا ہے۔
- حکام کا اصرار ہے کہ یہ فریم ورک مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
جیسے جیسے اس معاہدے پر عمل درآمد کا مرحلہ شروع ہوگا، توجہ اس کے عملی پہلوؤں پر مرکوز ہوگی۔ آپ کو ان تینوں ممالک کے درمیان آئندہ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں اور اعلیٰ سطحی دفاعی اجلاسوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ یہ واقعات واضح کریں گے کہ یہ معاہدہ عملی طور پر کیسے کام کرے گا۔ اگرچہ ترک وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے، لیکن خطے کے مبصرین یہ دیکھتے رہیں گے کہ آیا معاہدے کی عملی حقیقت انقرہ کے سفارتی بیانات سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔
فی الحال، پیغام واضح ہے: یہ اتحاد صرف رکن ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازع شروع کرنے کے لیے۔ آنے والے ہفتوں میں جب اس شراکت داری کے ضوابط حتمی شکل اختیار کریں گے، مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ رہیں۔
