6 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے جموں و کشمیر میں میڈیا کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (پی او جے کے) کے درمیان پریس کی آزادی اور رپورٹنگ کے معیار میں ایک واضح فرق پیدا کر دیا ہے۔

جموں و کشمیر میں میڈیا کی ترقی

اگست 2019 کے واقعات کے بعد سری نگر اور جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں میں میڈیا انڈسٹری نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مقامی میڈیا ہاؤسز اب حکومتی اقدامات اور ترقیاتی کاموں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تیزی سے عوام تک پہنچا رہے ہیں۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ترقی ایک مخصوص ضابطہ اخلاق کے تحت ہو رہی ہے، جہاں تحقیقی صحافت کے لیے گنجائش محدود ہے اور سیکیورٹی پالیسیوں کا اثر رپورٹنگ پر براہ راست نظر آتا ہے۔

پی او جے کے میں پریس کی آزادی کو درپیش مسائل

اس کے برعکس، پی او جے کے میں صحافیوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انتظامیہ کی جانب سے مداخلت اور سنسرشپ کے باعث وہاں آزادانہ رپورٹنگ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ پی او جے کے میں میڈیا ہاؤسز کو وسائل کی کمی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے عوام تک غیر جانبدارانہ معلومات کی فراہمی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

قارئین کے لیے اہم نکات

ایک عام شہری کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ میڈیا کے دونوں اطراف کے منظرنامے کس طرح ان کی رائے کو متاثر کرتے ہیں:

  • خبروں کے ذرائع کی جانچ پڑتال کریں: دیکھیں کہ آیا خبر سرکاری بیانیے پر مبنی ہے یا اس میں آزادانہ حقائق شامل ہیں۔
  • کثیر الجہتی رپورٹنگ پر توجہ دیں: کسی بھی واقعے کے بارے میں ایک سے زیادہ ذرائع سے تصدیق کریں۔
  • شفافیت کی تلاش: ایسے میڈیا اداروں کو ترجیح دیں جو انتظامیہ اور عوامی مسائل پر تنقیدی اور متوازن رپورٹنگ کرتے ہیں۔

مستقبل میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز روایتی سنسرشپ کو توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا میڈیا پر حکومتی کنٹرول مزید سخت ہوتا ہے۔ صحافت کی ساکھ کا انحصار اس بات پر ہے کہ صحافی انتظامی دباؤ سے آزاد رہ کر سچائی عوام تک کتنی پہنچا سکتے ہیں۔