قائمہ کمیٹی برائے صحت نے میڈیکل کالجز میں خالی رہنے والی نشستوں کو پر کرنے کے لیے میڈیکل کالج میرٹ کے معیار کو کم کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر کے سرکاری اور نجی میڈیکل کالجز میں خالی رہ جانے والی ہزاروں نشستوں کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔
میڈیکل کالج میرٹ اور خالی نشستیں
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سخت میرٹ پالیسی کے باعث داخلوں کے عمل کے بعد بھی بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہ جاتی ہیں۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ اگر میرٹ کی شرح میں معمولی نرمی کی جائے تو مزید طلباء کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا اور تعلیمی اداروں کے وسائل بھی بہتر طریقے سے استعمال ہو سکیں گے۔ یہ فیصلہ تعلیمی اداروں کے مالی نقصانات کو کم کرنے کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
فیسوں میں من مانے اضافے پر پابندی
کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر صحت نے واضح کیا کہ کوئی بھی میڈیکل کالج اپنی مرضی سے فیسوں میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ فیسوں کا ڈھانچہ تمام نجی اداروں کے لیے لازم ہے۔ وزیر صحت نے خبردار کیا کہ طلباء اور والدین پر مالی بوجھ ڈالنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
- کسی بھی کالج کو فیس بڑھانے کا اختیار نہیں ہے۔
- خالی نشستوں پر داخلے کے لیے میرٹ کے معیار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔
- تعلیمی معیار کو برقرار رکھنا ترجیح ہے۔
طلباء کے لیے کیا اہم ہے؟
اگر آپ میڈیکل کے طالب علم ہیں اور داخلے کے خواہشمند ہیں تو یہ تبدیلی آپ کے لیے ایک موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ البتہ، کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ میرٹ میں نرمی کا مطلب تعلیمی معیار پر سمجھوتہ کرنا نہیں ہوگا۔ مقصد صرف یہ ہے کہ جو طلباء معمولی فرق سے رہ گئے تھے، انہیں داخلہ مل سکے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
توقع ہے کہ وزارت صحت جلد ہی داخلہ پالیسی کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ طلباء کو مشورہ ہے کہ وہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی آفیشل ویب سائٹ پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی نئی پیش رفت سے بروقت آگاہ رہ سکیں۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ فیسوں کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کالجز کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
