شاہ پور میں پیر کے روز ڈرگ کنٹرول ٹیم نے ایک مقامی میڈیکل سٹور پر چھاپہ مار کر بڑی مقدار میں سمگل شدہ اور غیر رجسٹرڈ بھارتی ادویات برآمد کر لی ہیں۔ حکام کے مطابق سٹور کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
غیر قانونی ادویات کے خلاف کارروائی
یہ چھاپہ خفیہ اطلاع ملنے پر مارا گیا، جس کے دوران سٹور سے ایسی ادویات قبضے میں لی گئیں جنہیں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) سے منظوری حاصل نہیں تھی۔ غیر رجسٹرڈ ادویات کی فروخت عوامی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، کیونکہ یہ ادویات معیار اور حفاظت کے کسی بھی جانچ کے عمل سے نہیں گزرتیں، جس سے مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
- چھاپے کا دن: پیر
- مقام: تحصیل شاہ پور
- قانونی کارروائی: میڈیکل سٹور مالک کے خلاف مقدمہ کا اندراج
- برآمد شدہ اشیاء: سمگل شدہ اور غیر رجسٹرڈ بھارتی ادویات
غیر رجسٹرڈ ادویات کیوں خطرناک ہیں؟
جب آپ کوئی ایسی دوا خریدتے ہیں جو سرکاری طور پر رجسٹرڈ نہیں، تو آپ اپنی صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہوتے ہیں۔ سمگل شدہ ادویات کے سٹوریج کے کوئی مستند ریکارڈ نہیں ہوتے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ادویات نامناسب درجہ حرارت میں خراب ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان ادویات میں استعمال ہونے والے اجزاء کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ وہ انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہیں۔
بطور صارف آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
ادویات خریدتے وقت ہمیشہ پیکنگ پر ڈریپ (DRAP) کا رجسٹریشن نمبر چیک کریں۔ اگر دوا کی پیکنگ پر اردو میں تفصیلات موجود نہیں ہیں یا قیمت مارکیٹ ریٹ سے غیر معمولی طور پر کم ہے، تو ایسی ادویات ہرگز نہ خریدیں۔ آپ کسی بھی دوا کی رجسٹریشن کی تصدیق ڈریپ کی سرکاری ویب سائٹ پر جا کر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو کسی سٹور پر شک ہو تو فوری طور پر اپنے ضلعی ہیلتھ آفس کو مطلع کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ ان سمگل شدہ ادویات کے سپلائی چین نیٹ ورک کا پتہ لگایا جا سکے۔ توقع ہے کہ محکمہ صحت ضلعی سطح پر دیگر میڈیکل سٹورز کی کڑی نگرانی کرے گا تاکہ غیر قانونی ادویات کے کاروبار کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
