پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے سری نگر میں ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی جس میں مرکز سے مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے دستوری حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی کی جانب سے ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کیے ہوئے پورے سات برس بیت چکے ہیں۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے سات سال مکمل

محبوبہ مفتی اور ان کے حامیوں نے منگل کے روز سری نگر میں شمعیں روشن کر کے ان قوانین کے خاتمے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت نے خطے کے انوکھے انتظامی اور تشخصی حقوق کو زبردستی سلب کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس اقدام کو لے کر مسلسل غم و غصہ پایا جاتا ہے اور کشمیری قیادت وفاقی دارالحکومت کے فیصلوں پر شدید نکتہ چینی کر رہی ہے۔

  • احتجاج میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی
  • مظاہرین نے خصوصی حیثیت کے خاتمے کو غیر منصفانہ قرار دیا
  • حکومتی اقدامات کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی

نیشنل کانفرنس کا ردعمل اور ریاستی درجے کا مطالبہ

دوسری جانب نیشنل کانفرنس کے رہنما سجاد شاہین نے بھی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے ماضی میں کیے جانے والے وعدے پورے کیے جانے چاہئیں۔ سجاد شاہین نے مطالبہ کیا کہ صرف بحث کرنے کے بجائے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے تاکہ مقامی سطح پر عوام کے مسائل حل کیے جا سکیں۔

آگے کیا ہوگا

خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ مقامی جماعتیں دباؤ برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ آپ کو آنے والے دنوں میں مزید سیاسی اجتماعات اور عدالتی یا قانونی محاذ آرائی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا دہلی حکومت اس بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے پیش نظر کوئی لچک دکھاتی ہے یا پالیسی برقرار رہتی ہے۔