ایتھوپین ایئرلائنز کے سابق چیئرمین اور بین الاقوامی ہوا بازی کے معروف نام مسفن تاسیو نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی قیادت سنبھالنے سے انکار کرتے ہوئے بھارت کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا ہے۔ عالمی ایوی ایشن سیکٹر کی اس جانی پہچانی شخصیت کا پاکستان کے قومی ادارے کے بجائے رقیب فضائی کمپنی کا انتخاب کرنا ملکی ہوا بازی کی صنعت کے لیے ایک بڑا دھماکہ خیز لمحہ مانا جا رہا ہے۔

ایوی ایشن کی دنیا میں ایک اہم فیصلہ

مسفن تاسیو کا ایئر انڈیا کا رخ کرنا یہ بتاتا ہے کہ دنیا کے تجربہ کار ماہرین کس طرف جا رہے ہیں۔ اسلام آباد اور کراچی کے ایوی ایشن حلقوں کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے شدید مالی بحاس, بھاری قرضوں اور تاخیر کا شکار نجکاری کے عمل نے بین الاقوامی سطح کے منتظمین کو دور رکھا۔ اس کے برعکس ٹاٹا گروپ کی زیر ملکیت ایئر انڈیا نے اپنے فلیٹ کو پھیلانے، جدید بنانے اور مضبوط مالی مدد کی پیشکش کی جو مسفن تاسیو کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوئی۔

  • ایتھوپین ایئرلائنز کے سابق سربراہ مسفن تاسیو نے ایئر انڈیا کو اپنی اگلی منزل چنا۔
  • پی آئی اے میں اعلیٰ انتظامی عہدے کا خالی رہنا وزارتِ ایوی ایشن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
  • علاقائی حریف کمپنیاں دنیا بھر سے بہترین ٹیلنٹ حاصل کر رہی ہیں جبکہ پاکستانی ادارے بیوروکریسی کا شکار ہیں۔
  • اس فیصلے سے پی آئی اے کی نجکاری اور بحالی کے عمل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری اور مسافروں پر اثرات

یہ پیشرفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب حکومت قومی ایئرلائن کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اگر مسفن تاسیو جیسے تجربہ کار شخص کو پاکستان لایا جاتا تو ادارے کی ساکھ بہتر ہو سکتی تھی۔ تجربہ کار غیر ملکی قیادت کے بغیر اب مقامی منتظمین کے لیے یورپی یونین کی پابندیاں ہٹانا اور پرانے طیاروں کو اپ ڈیٹ کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ عام مسافر جو مہنگے ٹکٹوں اور فلائٹ میں تاخیر سے تنگ ہیں، وہ اس تاخیر کی قیمت چکانے پر مجبور ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

آئندہ دنوں میں نجکاری کمیشن کی طرف سے بولی کے عمل اور وزارتِ ایوی ایشن کے آئندہ لائحہ عمل پر نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا بھی باقی ہے کہ کیا حکومت اب کسی مقامی شخصیت کو یہ ذمہ داری سونپتی ہے یا غیر ملکی ماہرین کے حصول کے لیے کوئی نیا راستہ نکالا جاتا ہے۔