میٹا نے اپنی عالمی پالیسی کے تحت 7 لاکھ 56 ہزار سے زائد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کر دیا ہے۔ یہ کارروائی بنیادی طور پر ان اکاؤنٹس کے خلاف کی گئی ہے جو 16 سال سے کم عمر صارفین کے زیر استعمال تھے، اور اس کا مقصد نئے ڈیجیٹل سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
میٹا اکاؤنٹس ڈیلیٹ ہونے کی اصل وجہ
اگرچہ کمپنی نے ہر اکاؤنٹ کے ڈیلیٹ ہونے کی الگ سے وجہ نہیں بتائی، لیکن یہ اقدام خودکار سسٹم کے ذریعے اٹھایا گیا ہے۔ میٹا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کا یہ سلسلہ ان قوانین کی پاسداری کے لیے شروع کیا گیا ہے جو نابالغ افراد کی آن لائن حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں۔ آسٹریلیا جیسے ممالک میں ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات اب عالمی سطح پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
پاکستان میں موجود سوشل میڈیا صارفین کے لیے یہ ایک اہم انتباہ ہے کہ کمپنیاں اب مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ڈیٹا کی جانچ کر رہی ہیں۔ اگر آپ کا اکاؤنٹ آپ کی اصل عمر سے مطابقت نہیں رکھتا یا کمپنی کی پالیسیوں کے خلاف ہے، تو آپ کا اکاؤنٹ بھی خودکار سسٹم کی زد میں آ سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی سختی
دنیا بھر میں حکومتیں ٹیکنالوجی کمپنیوں سے صارفین، بالخصوص بچوں کی حفاظت کے لیے سخت مطالبات کر رہی ہیں۔ میٹا کا یہ اقدام اسی دباؤ کا نتیجہ ہے تاکہ بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
- خودکار تصدیق: میٹا اب صارفین کے رویے اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر عمر کی تصدیق کر رہا ہے۔
- قانونی پاسداری: پلیٹ فارمز اب مقامی قوانین کے مطابق اپنی پالیسیوں کو تبدیل کر رہے ہیں۔
- اپیل کا طریقہ کار: اگر آپ کا اکاؤنٹ غلطی سے ڈیلیٹ ہوا ہے، تو آپ میٹا کے آفیشل ہیلپ سینٹر کے ذریعے اپیل کر سکتے ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اپنے اکاؤنٹ کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی پروفائل میں درج معلومات کو درست رکھیں۔ اپنی تاریخ پیدائش کو اپ ڈیٹ رکھیں اور سیکیورٹی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔ اگر آپ کا اکاؤنٹ کسی کاروباری مقصد کے لیے ہے، تو نوٹیفکیشنز پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی پالیسی تبدیلی سے بروقت آگاہ رہیں۔
مستقبل میں میٹا اور دیگر پلیٹ فارمز کی جانب سے ایسی مزید سختیاں متوقع ہیں۔ ہم صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے اکاؤنٹ کے ساتھ درست رابطہ نمبر اور ای میل منسلک رکھیں تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں اکاؤنٹ بحال کروانے میں آسانی ہو۔
