امریکہ میں نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے میٹا (Meta) کو 567 ملین ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے اپنے پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہ کرنے پر سنایا گیا ہے۔ میٹا کی جانب سے بچوں کی حفاظت (meta child safety) کے حوالے سے یہ ایک بڑا قانونی دھچکا ہے جو دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔

میٹا کی جانب سے بچوں کی حفاظت پر عدالتی فیصلہ

عدالت نے نہ صرف جرمانہ عائد کیا ہے بلکہ میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز جیسے فیس بک اور انسٹاگرام پر نوعمر صارفین کے لیے سخت قوانین لاگو کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی لت سے بچانا اور انہیں نقصان دہ مواد سے دور رکھنا ہے۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق اہم اقدامات یہ ہیں:
- نوعمر صارفین کے لیے ماہانہ 90 گھنٹے کی سکرین ٹائم کی حد مقرر کرنا۔
- 'لائیکس' کی تعداد کو بائی ڈیفالٹ چھپا دینا تاکہ سماجی دباؤ کم ہو۔
- رات کے اوقات میں پش نوٹیفکیشنز کو خودکار طریقے سے بند کرنا۔
- کم عمر صارفین کے لیے مواد کی سخت فلٹرنگ۔

یہ فیصلہ عام صارفین کے لیے کیوں اہم ہے؟

سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ وقت گزارنا نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ 'ڈیزائن کے ذریعے حفاظت' کے تصور کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور والدین اکثر اپنے بچوں کے سکرین ٹائم کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں فی الحال اس قسم کے سخت قوانین کا نفاذ نہیں ہے، لیکن یہ پیش رفت ایک اہم بحث کا نقطہ آغاز ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر نظر رکھیں۔ آپ ابھی سے اپنے بچوں کے فون میں 'Digital Wellbeing' یا 'Screen Time' کے فیچرز استعمال کر کے ایپس کے لیے وقت کی حد مقرر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فیس بک اور انسٹاگرام کی پرائیویسی سیٹنگز میں جا کر اکاؤنٹ کو 'پرائیویٹ' کریں تاکہ اجنبی افراد ان کے بچوں سے رابطہ نہ کر سکیں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا میٹا اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا یا نہیں، اور کیا دنیا کے دیگر ممالک بھی اس قسم کی قانون سازی کریں گے۔ ہم اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی اپ ڈیٹ آئے گی، آپ کو آگاہ کیا جائے گا۔