میکسیکو میں سوشل میڈیا کے ہر دلعزیز انفلوئنسر سیزر گاستیلم کو ٹک ٹاک پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ یہ ہولناک واقعہ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر پیش آیا جہاں معروف مواد تخلیق کار اپنے دوستوں کے ہمراہ لائیو ویڈیو شوٹ کر رہا تھا۔
لائیو اسٹریمنگ کے دوران جان لیوا حملہ
سیزر گاستیلم اپنے ڈیجیٹل ناظرین کے ساتھ براہ راست گفتگو میں مصروف تھے جب نامعلوم مسلح افراد نے اچانک حملہ کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق، حملے کے وقت انفلوئنسر نے ڈلیوری بوائے کا لباس پہن رکھا تھا۔ لائیو ویڈیو کے دوران اچانک فائرنگ کی آوازیں گونج اٹھیں اور اسکرین پر افراتفری پھیل گئی، جسے ہزاروں مداحوں نے آن لائن دیکھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ادارے اور پولیس موقع پر پہنچ گئے، لیکن شدید زخمی ہونے کے باعث انفلوئنسر جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس حکام نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔
ڈیجیٹل تخلیق کاروں کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان
اس دلخراش واقعے نے دنیا بھر میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ آج کل کے دور میں لائیو اسٹریمنگ اور اپنی روزمرہ کی نقل و حرکت کو آن لائن شیئر کرنا معمول بن چکا ہے، جو بعض اوقات خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ لائیو لوکیشن اور ذاتی سرگرمیوں کو بغیر پروٹوکول کے نشر کرنا سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
تحقیقات کا اگلا مرحلہ
میکسیکن پولیس لائیو اسٹریمنگ کی وائرل ہونے والی فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا یہ کوئی ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور مجرمانہ محرکات تھے۔ اس اندوہناک واقعے پر مداحوں اور ساتھی تخلیق کاروں کی طرف سے شدید صدمے اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
