غذائی اسکیم شدید تنقید کی زد میں
بھارت میں بچوں کی خوراک کے حوالے سے چلائی جانے والی مڈ ڈے میل اسکیم کو اس وقت شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب دودھ کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر گھوٹالے کا انکشاف ہوا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ طلباء کی صحت اور غذائی ضروریات کے ساتھ انتہائی غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ فلاحی نظام کے اندر بدعنوانی کی خبریں سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ معیاری خوراک کی فراہمی کے نام پر بچوں کو گھٹیا اشیاء دینا حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ بدنظمی اتر پردیش کے شہر کانپور میں سامنے آئی جہاں اسکولوں میں تقسیم کیے جانے والے دودھ میں سنگین گڑبڑ پائی گئی۔ بچوں کو صحت بخش خوراک مہیا کرنے کے بجائے کرپٹ مافیا نے سرکاری وسائل میں خیانت کی اور معیاری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔ اس واقعے کے بعد مقامی والدین نے بچوں کی فلاح و بہبود سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
فلاحی نظام میں انتظامی خامیاں
یہ واقعہ حکومتی سطح پر چلنے والے فلاحی منصوبوں کی کمزور مانیٹرنگ اور چیک اینڈ بیلنس کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک شفاف پروکیورمنٹ اور سخت مانیٹرنگ کے نظام کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، ایسے اسکینڈلز سامنے آتے رہیں گے۔ غریب طبقے کے بچے اسکولوں میں اسی امید کے ساتھ آتے ہیں کہ انہیں بہتر خوراک ملے گی، مگر نظام کی خرابی سب کچھ تباہ کر دیتی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر حکمران جماعت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ سول سایت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں کھانے کے معیار کو جانچنے کے لیے آزادانہ کمیٹیاں بنائی جانی چاہئیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے گھوٹالوں سے بچا جا سکے۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
والدین اور مقامی عوام کو اب ضلعی سطح پر اسکولوں کے فنڈز اور غذائی فراہمی کی رپورٹس پر نظر رکھنی ہوگی۔ حکام نے کانپور کے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومت اس معاملے میں محض زبانی جمع خرچ سے کام لیتی ہے یا واقعی نظام کو درست کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔
