لاکھوں شیعہ مسلمانوں نے منگل کو عراق کے مقدس شہر کربلا میں اربین کا سالانہ اجتماع انتہائی عقیدت و احترام سے منایا، جو کہ علاقائی سکیورٹی خدشات اور امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی کے سائے میں منعقد ہوا۔

اجتماع کا پیمانہ اور سکیورٹی صورتحال

ہر سال اربین کے موقع پر کربلا میں دنیا بھر سے کروڑوں زائرین جمع ہوتے ہیں، جو نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے چہلم کے موقع پر پیدل سفر طے کرتے ہیں۔ نجف، بغداد اور دیگر عراقی شہروں سے کربلا آنے والے راستے زائرین سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ تاہم، اس بار کا اجتماع ایک ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی عروج پر ہے، جس کی وجہ سے عراقی سکیورٹی فورسز بھی ہائی الرٹ پر رہیں۔

پاکستانی زائرین اور سفری صورتحال

ہر سال ہزاروں پاکستانی زائرین بھی اربین میں شرکت کے لیے عراق کا رخ کرتے ہیں۔ اس بار بھی پاکستانیوں نے سخت ویزا ضوابط اور پروازوں کے شیڈول میں تبدیلیوں کے باوجود یہ سفر کیا۔ وزارت خارجہ اور مقامی ٹور آپریٹرز صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ کسی بھی ناگوار واقعے یا سفری تاخیر کی صورت میں زائرین کی مدد کی جا سکے۔ اگر آپ مشرق وسطیٰ کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو بغداد میں پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ رابطے میں رہنا آپ کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

زائرین کے لیے ضروری ہدایات

  • عراق پہنچنے کے بعد پاکستانی سفارتخانے یا قونصل خانے میں لازمی رجسٹریشن کروائیں۔
  • اپنے پاسپورٹ، عراقی ویزا اور ہنگامی نمبروں کی کاپیاں ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔
  • غیر متعلقہ یا حساس سرحدی علاقوں کے دورے سے گریز کریں اور اسلام آباد کی سفری ہدایات پر عمل کریں۔

اگلی صورتحال پر نظر

آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن، تہران اور بغداد کے درمیان سفارتی رابطوں اور بیانات پر نظر رکھیں۔ خطے میں فوجی کشیدگی کی کسی بھی لہر کا اثر مشرق وسطیٰ کی پروازوں پر پڑ سکتا ہے، جو پاکستان واپسی کے سفر کو متاثر کر سکتا ہے۔