یوکرین میں لاکھوں کتابوں کا جل کر راکھ ہو جانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کس طرح 'جنگِ بقا' (war of endurance) ملک کے ثقافتی اور اقتصادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔ یوکرین کے سب سے بڑے بچوں کے پبلشرز میں سے ایک، 'رانک' (Ranok) کے ڈائریکٹر وکٹر کروگلوف نے جب اپنی کتابوں کے ڈھیروں کو راکھ میں بدلتے دیکھا تو ان کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ یہ منظر نہ صرف ایک پبلشر کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ یہ یوکرین کی آنے والی نسلوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
جنگِ بقا کا وسیع تر مفہوم
لاکھوں کتابوں کا ضیاع صرف کاغذ کا نقصان نہیں ہے، بلکہ یہ ان تعلیمی وسائل کا خاتمہ ہے جو بچوں کے لیے ناگزیر تھے۔ رانک جیسے پبلشنگ ہاؤسز اب اس صورتحال میں کام کر رہے ہیں جہاں لاجسٹکس، پرنٹنگ پریس اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک ہر وقت خطرے کی زد میں ہیں۔ یہ جنگ اب صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے اثرات عام شہری زندگی اور علم و ادب تک پہنچ چکے ہیں۔
ثقافتی اور اقتصادی نقصانات
جب ہم جنگِ بقا کے تناظر میں ان کتابوں کی تباہی کو دیکھتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کسی قوم کی شناخت کو مٹانے کی ایک کوشش ہے۔ کتابیں کسی بھی معاشرے کی ثقافتی بنیاد ہوتی ہیں، اور ان کا جلنا ایک قوم کی فکری جڑوں پر حملہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پبلشنگ انڈسٹری کو ہونے والا مالی نقصان اتنا زیادہ ہے کہ اسے سنبھالنا آنے والے کئی سالوں تک مشکل ہوگا۔
پاکستان کے لیے سبق
پاکستان میں موجود قارئین کے لیے یہ خبر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جنگ کے اثرات کتنے دور رس ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ تنازعہ ہم سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے، لیکن عالمی سپلائی چین اور کاغذ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ذریعے یہ ہم پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اب یہ دیکھ رہی ہے کہ یوکرین اپنی ثقافتی ورثے کو کیسے محفوظ رکھتا ہے اور جنگ کے بعد تعلیمی بحالی کیسے ممکن ہوگی۔
آگے کیا ہوگا؟
- بے گھر ہونے والے یوکرینی بچوں کی تعلیم کے لیے بین الاقوامی امدادی اداروں کے اقدامات پر نظر رکھیں۔
- مشرقی یورپ میں سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے عالمی سطح پر کاغذ کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔
- یوکرین کی وزارتِ ثقافت کے ان اقدامات کو دیکھیں جو باقی ماندہ ذخائر کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
