یکم جولائی 2026 سے سندھ میں کم از کم اجرت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے بعد غیر ہنر مند مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ 40,000 روپے سے بڑھ کر 43,000 روپے کر دی گئی ہے۔ سندھ کابینہ کی جانب سے منظور کردہ اس 7.5 فیصد اضافے کا مقصد صوبے کے نچلے طبقے کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف کچھ ریلیف فراہم کرنا ہے۔
سندھ میں کم از کم اجرت میں اضافے کی تفصیلات
ایک عام مزدور کے لیے 3,000 روپے کا ماہانہ اضافہ بظاہر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن یہ صوبائی حکومت کی جانب سے معاشی دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ اور کابینہ کے اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
- نئی ماہانہ کم از کم اجرت: 43,000 روپے
- پرانی کم از کم اجرت: 40,000 روپے
- اطلاق کی تاریخ: یکم جولائی 2026
- ہدف: نجی شعبے کے غیر ہنر مند ورکرز
کیا یہ آپ کی جیب پر اثر ڈالے گا؟
اگر آپ ایک غیر ہنر مند ورکر ہیں، تو یہ اضافہ قانونی طور پر لازم ہے۔ صوبے بھر کے آجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یکم جولائی 2026 تک اپنے پے رول کو اس نئی حد کے مطابق ایڈجسٹ کریں۔ تاہم، غیر رسمی شعبے میں، جہاں اکثر مزدور کام کرتے ہیں، وہاں عملدرآمد ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کا آجر اس پر عمل نہیں کرتا، تو آپ کو اپنی تنخواہ کی سلپ سنبھال کر رکھنی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر سندھ کے محکمہ لیبر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
معاشی نقطہ نظر سے، سندھ میں کم از کم اجرت کا یہ اضافہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف اس سے غریب طبقے کے ہاتھوں میں رقم آئے گی، تو دوسری طرف چھوٹے کاروباروں (SMEs) کے لیے اخراجات کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ خدشہ ہے کہ کچھ کاروباری ادارے اس اضافے کا بوجھ کم کرنے کے لیے ملازمین کی تعداد کم کر سکتے ہیں یا اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں، جس سے مہنگائی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ غیر ہنر مند زمرے میں آتے ہیں، تو جولائی سے اپنی تنخواہ کی سلپ پر نظر رکھیں۔ یقینی بنائیں کہ آپ کا آجر حکومتی نوٹیفکیشن سے آگاہ ہے۔ اگر آپ کاروباری مالک ہیں، تو یکم جولائی 2026 کی ڈیڈ لائن سے پہلے اپنے آپریشنل بجٹ کو دوبارہ ترتیب دیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا محکمہ لیبر اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے فعال اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔
