نوجوان تاجر میر علی رضا کی موت کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں نئی میر علی رضا پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں کمر پر گولی ماری گئی تھی۔

آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر کشائی کے بعد لاش کا دوبارہ معائنہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، مقتول کے جسم پر متعدد زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں، جن میں سر اور چہرے پر لگنے والی چوٹیں بھی شامل ہیں۔

میر علی رضا پوسٹ مارٹم کے نتائج

میڈیکل بورڈ نے تاحال موت کی حتمی وجہ کو 'محفوظ' قرار دیا ہے، کیونکہ لیبارٹری کی تفصیلی رپورٹس اور کیمیکل تجزیے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ مجسٹریٹ کی نگرانی میں ہونے والی یہ کارروائی کیس کے قانونی پہلوؤں کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

مقتول کے اہل خانہ اور ان کے وکیل نے تحقیقات میں شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ سر اور چہرے پر موجود زخموں سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موت سے قبل مقتول کے ساتھ تشدد کیا گیا، جس کی تحقیقات اب پولیس کی ترجیح ہے۔

  • اہم انکشافات: کمر پر گولی کا نشان اور سر و چہرے پر گہرے زخم۔
  • طریقہ کار: آٹھ رکنی بورڈ کی نگرانی میں قبر کشائی۔
  • موجودہ حیثیت: حتمی رپورٹ کا انتظار، موت کی وجہ تاحال محفوظ۔

تحقیقات کا اگلا مرحلہ

اب تفتیشی ادارے ان طبی شواہد کو جائے وقوعہ سے ملنے والے ثبوتوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس سرجن کے مطابق جیسے ہی فرانزک اور بیلسٹک رپورٹس موصول ہوں گی، موت کی حتمی وجہ کا تعین کر لیا جائے گا، جس کے بعد قانونی کارروائی میں تیزی آئے گی۔

قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں ہونے والا یہ پوسٹ مارٹم کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ عوام اور مقتول کے لواحقین اب عدالت میں پیش کی جانے والی حتمی رپورٹ کے منتظر ہیں۔ اس کیس میں ہونے والی کوئی بھی نئی پیش رفت مجرموں کی گرفتاری کے لیے کلیدی ثابت ہو سکتی ہے۔