کراچی میں میر رضا علی کی موت کا معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے، جہاں مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس تفتیش میں پیش رفت کرنے کے بجائے مقتول کے غمزدہ اہل خانہ کو ہراساں کرنے میں مصروف ہے۔
میر رضا علی کیس میں انصاف کی تلاش
میر رضا علی کیس اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے جب دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے۔ وکیل جبران ناصر نے طبی شواہد کی بنیاد پر اس واقعے کو قتل قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اپنی توجہ اصلی ملزمان کی گرفتاری پر مرکوز کرے۔ تاہم، خاندان کا کہنا ہے کہ انصاف مانگنے کے بدلے انہیں پولیس کی جانب سے دھمکیاں اور غیر ضروری دباؤ کا سامنا ہے۔
- دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں ایسے شواہد ملے ہیں جو قدرتی موت کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔
- وکیل جبران ناصر نے پولیس کے رویے کو تفتیش میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔
- اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ اعلیٰ حکام اس معاملے کا نوٹس لیں اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائیں۔
تفتیش پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟
مقتول کے اہل خانہ کے لیے یہ صورتحال دوہری تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف وہ اپنے پیارے کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتے ہیں، اور دوسری طرف انہیں پولیس کے دباؤ کا سامنا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب طبی رپورٹ قتل کی طرف اشارہ کر رہی ہو، تو پولیس کا اولین فرض تفتیش کو آگے بڑھانا ہوتا ہے، نہ کہ متاثرین کو ہراساں کرنا۔
وکیل جبران ناصر نے واضح کیا ہے کہ طبی شواہد ملنے کے بعد بھی پولیس کا رویہ غیر پیشہ ورانہ ہے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ انہیں بار بار تھانے طلب کر کے یا ان پر دباؤ ڈال کر کیس کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
یہ کیس اب عوامی سطح پر بھی زیر بحث ہے اور ہر کوئی انصاف کا منتظر ہے۔ آنے والے دنوں میں درج ذیل پیش رفت اہم ہو سکتی ہے:
- کیا عدالت اس معاملے میں کسی غیر جانبدار تفتیشی افسر کی تعیناتی کا حکم دے گی؟
- کیا سندھ پولیس کی اعلیٰ قیادت ہراساں کیے جانے کے الزامات پر کوئی وضاحت جاری کرے گی؟
- حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد کیا پولیس اپنی حکمت عملی تبدیل کرے گی؟
کراچی میں عدل کے نظام کی ساکھ کے لیے یہ کیس ایک آزمائش بن چکا ہے۔ اہل خانہ کے وکیل نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ انصاف کے حصول تک قانونی جنگ جاری رکھیں گے اور کسی صورت میں بھی سچ کو دبانے نہیں دیں گے۔
