میر رضا علی کی موت کے کیس کی تحقیقات میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے جہاں تفتیش کاروں نے جائے وقوعہ کے قریب سے گزرنے والے مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو اہم سراغ کے طور پر شامل کر لیا ہے۔ اس ہائی پروفائل معاملے کی جانچ کرنے والے قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈیجیٹل فوٹیج اور چشم دید گواہوں کے بیانات کی مدد سے ان سواروں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ واقعہ کے وقت علاقے میں موجود تھے۔ اس نئی پیشرفت نے تحقیقات کا رخ موڑ دیا ہے اور تفتیش کاروں کو مزید شواہد اکٹھے کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
فرانزک شواہد اور جائے وقوعہ سے برآمدگیاں
فرانزک ٹیمیں اور تفتیش کار جائے وقوعہ سے ملنے والے جسمانی شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا رضا کو پیچھے سے گولی ماری گئی تھی یا نہیں۔ اس نظریے کو موقع پر موجود گولیوں کے نشانات سے پرکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، پولیس ٹیموں نے جائے وقوعہ کے قریب سے مرحوم کاروباری شخصیت کا موبائل فون اور پستول کا ہولسٹر بھی برآمد کر لیا ہے۔ ان چیزوں کو ڈیجیٹل اور فرانزک ڈیٹا نکالنے کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انہیں کوئی دھمکیاں مل رہی تھیں۔
غائب ہتھیار اب بھی بنیادی معمہ
ذاتی سامان اور متعلقہ اشیاء ملنے کے باوجود، اس معاملے کا ایک اہم حصہ تاحال غائب ہے۔ تفتیش کاروں نے تصدیق کی ہے کہ اس کیس سے منسلک 30 بور کا پستول تاحال نہیں مل سکا۔ پولیس کی تلاشی ٹیمیں جائے وقوعہ کے آس پاس کے علاقوں اور نالوں میں اس ہتھیار کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فرانزک ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار خول کے خدوخال ملانے اور فائرنگ کی ترتیب جاننے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ حکام اس ویڈیو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جس میں مرحوم تاجر کو بات کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، تاکہ ان کی حالیہ سرگرمیوں کا پس منظر معلوم کیا جا سکے۔
آئندہ کیا دیکھنا چاہیے؟
اگر آپ اس خبر پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تو تفتیشی ادارے کی جانب سے مشکوک موٹر سائیکل سواروں کی شناخت اور موبائل فون کی فرانزک رپورٹ کے بارے میں آنے والی تازہ ترین معلومات کا انتظار کریں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 30 بور کے غائب پستول کی برآمدگی اس بات کا فیصلہ کرنے میں اہم ہوگی کہ یہ واقعہ ہدف بنا کر کیا گیا قتل تھا یا کسی جھگڑے کا نتیجہ۔ مقامی حکام نے میڈیا کو یقین دلایا ہے کہ بیلسٹک اور فون ڈیٹا کا تجزیہ مکمل ہوتے ہی مزید تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
