مرحوم تاجر میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے دوران ایک اہم موڑ سامنے آیا ہے، جہاں مقتول کے اہل خانہ نے این سی سی آئی اے (NCCIA) کی جانب سے سمارٹ واچ کے فرانزک تجزیے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خاندان کا ماننا ہے کہ شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خدشہ ہے، اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کی ڈیجیٹل فرانزک پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) سے کرائی جائے۔

میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں رکاوٹیں

میر رضا علی قتل کیس کی تفتیش میں سمارٹ واچ کا ڈیٹا انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، جو مقتول کے آخری لمحات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ قانونی ماہرین اور خاندان کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے کے پاس موجود شواہد کی غیر جانبداری مشکوک ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، نئی تحقیقاتی ٹیم نے این سی سی آئی اے کو چار خطوط بھیجے ہیں، لیکن خاندان اب بھی اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے پی ایف ایس اے کی مداخلت کا خواہاں ہے۔

اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

تفتیشی ٹیم اب ایک دوسرے اہم اجلاس کی تیاری کر رہی ہے جس میں شواہد کی منتقلی اور فرانزک کے طریقہ کار پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ خاندان کا موقف ہے کہ پی ایف ایس اے کا انفراسٹرکچر زیادہ قابل اعتماد ہے اور وہاں کی گئی تحقیقات کو عدالت میں چیلنج کرنا مشکل ہوگا۔

آپ کو درج ذیل پیشرفت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے:
- تفتیشی ٹیم اور فرانزک ماہرین کے درمیان ہونے والی اگلی ملاقات کے نتائج۔
- آیا عدالت اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے شواہد کو پی ایف ایس اے منتقل کرنے کا حکم دیتی ہے یا نہیں۔
- این سی سی آئی اے کی جانب سے ٹمپرنگ کے الزامات پر کوئی باضابطہ جواب۔

مقتول کے اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے ڈیجیٹل شواہد کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ کسی بھی قسم کی تکنیکی غلطی یا ہیرا پھیری کیس کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔