مرحوم کاروباری شخصیت میر رضا علی کے اہل خانہ نے باضابطہ طور پر nccia forensic examination of smartwatch کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خاندانی وکیل جبران ناصر کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سمارٹ واچ کا فرانزک تجزیہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے بجائے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) سے کروایا جائے۔
سمارٹ واچ کی فارنزک جانچ پر اعتراض کیوں؟
اس تنازع کی بنیادی وجہ اہل خانہ کا این سی سی آئی اے کے تفتیشی عمل پر عدم اعتماد ہے۔ قانونی ٹیم کا موقف ہے کہ شواہد کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک غیر جانبدار ادارے کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہے۔ اہل خانہ کا ماننا ہے کہ سمارٹ واچ میں موجود نجی ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ایک ایسے ادارے کا ہونا ضروری ہے جو تکنیکی اعتبار سے زیادہ شفاف اور غیر جانبدارانہ ساکھ رکھتا ہو۔
ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پرائیویسی اور ذاتی آلات کی اہمیت کے پیشِ نظر اب اس طرح کے کیسز میں غیر جانبدارانہ فرانزک جانچ کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے۔ این سی سی آئی اے، جو ملک بھر میں سائبر کرائمز کی تفتیش کرتی ہے، ماضی میں بھی اپنے تفتیشی پروٹوکولز کے حوالے سے تنقید کی زد میں رہی ہے۔
پی ایف ایس اے کی اہمیت
پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کو پاکستان میں پیچیدہ ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے کے لیے ایک انتہائی مستند ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر عدالت اس درخواست کو منظور کر لیتی ہے تو یہ کیس کی تفتیش میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ اہل خانہ کا اصرار ہے کہ ایک تیسرے فریق کی جانب سے جانچ ہی میر رضا علی کے ڈیجیٹل ڈیٹا اور ان کی ساکھ کو محفوظ رکھنے کا واحد راستہ ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
عدالت کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا یہ ڈیوائس این سی سی آئی اے کے پاس رہے گی یا اسے پی ایف ایس اے کے حوالے کیا جائے گا۔ یہ کیس پاکستان میں ڈیجیٹل فارنزک کی اہمیت اور پہننے کے قابل ٹیکنالوجی (wearable technology) کے حوالے سے قانونی طریقہ کار کے تعین میں ایک مثال بن سکتا ہے۔ جب تک عدالتی فیصلہ نہیں آ جاتا، یہ سمارٹ واچ تفتیشی اداروں اور اہل خانہ کے درمیان قانونی بحث کا مرکزی نقطہ رہے گی۔
