کراچی کی ایک سیشن عدالت نے پیرس اور پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی اور معروف کھانے کے پراجیکٹ وفلکس کے مالک میر رضا علی کے پراسرار قتل کے معاملے میں ان کے نامزد کاروباری شراکت دار کی قبل از گرفتاری ضمانت میں 24 اگست تک توسیع کر دی ہے۔ میر رضا علی گزشتہ ماہ 28 جولائی کو اپنے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے، جن کی لاش بعد ازاں شہر کے مختلف حصوں سے ملنے کے بعد پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا تھا۔

واقعے کا پس منظر اور تحقیقات

ابتدائی اطلاعات کے مطابق میر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلنے کے بعد پراسرار طور پر غائب ہو گئے تھے، جن کے اہل خانہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی تھی۔ چند روز بعد ان کی لاش ملنے پر علاقے میں سنسنی پھیل گئی اور پولیس نے فوری طور پر تفتیش شروع کی۔ تفتیشی حکام نے مقتول کے قریبی حلقوں اور کاروباری شراکت داروں سے پوچھ گچھ کی، جس دوران ملزم نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر لی تھی۔ عدالت نے ہفتے کے روز ہونے والی سماعت کے بعد ملزم کی ضمانت میں 24 اگست تک توسیع کا حکم جاری کر دیا ہے۔

آئندہ کی قانونی کارروائی

عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ سماعت یعنی 24 اگست تک تمام فارنزک شواہد اور رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کال ڈیوٹی ریکارڈز، فنگر پرنٹس اور دیگر تکنیکی شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ مقتول کے لواحقین اور مقامی کاروباری برادری نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کو جلد از جلد کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب تمام نظریں 24 اگست کی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں عدالت مزید دلائل سننے کے بعد ضمانت سے متعلق فیصلہ کرے گی۔