کراچی کی سٹی کورٹ نے تاجر میر رضا کی موت کے معاملے میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت میر رضا کیس کی تحقیقات میں ایک اہم موڑ ہے، کیونکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔

دوبارہ پوسٹ مارٹم کیوں ضروری ہوا؟

عدالت کا یہ فیصلہ پولیس سرجن کراچی کی جانب سے 29 جولائی 2026 کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان تکنیکی غلطیوں اور خامیوں نے کیس کی شفافیت کو مشکوک بنا دیا تھا، جس کے بعد عدالت نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دوبارہ طبی معائنے کا حکم دیا۔

میڈیکل بورڈ کی تشکیل

عدالتی حکم کے مطابق سیکریٹری ہیلتھ کو فوری طور پر ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ بورڈ قبر کشائی کے عمل کی نگرانی کرے گا اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے ذریعے موت کی اصل وجوہات کا تعین کرے گا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ پورا عمل عدالتی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا تاکہ تحقیقات میں مزید کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

میر رضا کیس کے اہم نکات

  • سٹی کورٹ نے جمعرات کو قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست منظور کی۔
  • پولیس سرجن کراچی کی رپورٹ میں 29 جولائی 2026 کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر 14 اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔
  • محکمہ صحت سندھ کو ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • عدالتی احکامات کے تحت قبر کشائی کا عمل شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔

آگے کیا ہوگا؟

میر رضا کیس میں اب سب کی نظریں محکمہ صحت کی جانب سے بننے والے میڈیکل بورڈ پر ہیں۔ بورڈ کی تشکیل کے بعد قبر کشائی کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔ اگر آپ اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں، تو محکمہ صحت کے نوٹیفکیشن اور عدالتی کارروائی پر نظر رکھیں، کیونکہ یہ نئی رپورٹ ہی طے کرے گی کہ اس معاملے میں قتل کا مقدمہ درج ہوگا یا تحقیقات کس رخ پر جائیں گی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کرنے والے عملے کی ذمہ داری کا تعین بھی آنے والی سماعتوں میں ایک اہم موضوع ہوگا۔