میر رضا کیس میں تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے نئی تشکیل دی گئی 8 رکنی تفتیشی کمیٹی نے اہم پیش رفت کی ہے۔ کمیٹی نے نہ صرف پولیس افسران اور اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے ہیں بلکہ اس کیس کی ابتدائی تحقیقات کرنے والی سابقہ ٹیم سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔

میر رضا کیس کی تحقیقات میں تیزی

نئی تفتیشی کمیٹی نے میر رضا علی کی پراسرار موت کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے ہیں۔ ان اجلاسوں کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا ابتدائی تحقیقات میں کوئی کوتاہی برتی گئی یا شواہد کو ضائع کیا گیا۔ پولیس حکام کے بیانات ریکارڈ کرنے کا عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تفتیشی ٹیم کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتی۔

کرائم سین اور گیسٹ ہاؤس کا دورہ

تفتیشی کمیٹی نے کرائم سین کا دورہ بھی کیا ہے، جہاں میر رضا علی کی لاش ملی تھی۔ اس دورے کا مقصد جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کا ازسرنو جائزہ لینا اور اس مشکوک گیسٹ ہاؤس کے ماحول کو سمجھنا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ کمیٹی اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ آیا سابقہ ٹیم نے فارنزک شواہد کو درست طریقے سے اکٹھا کیا تھا یا نہیں۔

اب کیا ہوگا؟

متاثرہ خاندان اور عوام اس کیس کے منطقی انجام کے منتظر ہیں۔ تفتیشی ٹیم کی جانب سے اب تک کی گئی کارروائیوں سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی حقائق سامنے آ جائیں گے۔ فی الحال، کمیٹی کی جانب سے کسی حتمی رپورٹ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے بجائے سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر ہی انحصار کریں۔