میر رضا ہلاکت کیس کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اس پُراسرار گیسٹ ہاؤس کے 14 سالہ ملازم نے تفتیشی حکام کو اہم بیانات دے دیے ہیں۔ یہ گیسٹ ہاؤس وہی مقام ہے جہاں سے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی لاش برآمد ہوئی تھی، اور اس ملازم کا سامنے آنا کیس کو حل کرنے میں کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔
میر رضا ہلاکت کیس میں اہم انکشافات
تفتیشی ذرائع کے مطابق، کم عمر ملازم نے اس واقعے کی اندرونی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملازم کا بیان واقعے کی کڑیوں کو جوڑنے میں مددگار ثابت ہوگا، تاہم تفتیش کے مفاد میں فی الحال تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پولیس گیسٹ ہاؤس کے انتظام اور وہاں ہونے والی مشکوک سرگرمیوں کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے۔
تفتیش کا دائرہ کار وسیع، 19 افراد زیر حراست
پولیس نے اس کیس میں اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ حال ہی میں ایک سوئفٹ کار میں آنے والے 4 مشکوک افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ان نئی گرفتاریوں کے بعد میر رضا ہلاکت کیس میں شامل تفتیش افراد کی مجموعی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے۔ پولیس اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ آیا یہ افراد براہِ راست قتل میں ملوث ہیں یا شواہد چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔
آگے کیا ہوگا؟
اب تفتیش کا اگلا مرحلہ فرانزک رپورٹس اور گرفتار شدہ افراد کے بیانات کا موازنہ کرنا ہے۔ شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کیس میں ملوث اصل ذمہ داروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ آپ کو اس کیس سے جڑی تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے پولیس کی جانب سے جاری ہونے والی اگلی پریس بریفنگ اور فرانزک رپورٹ کا انتظار کرنا ہوگا۔ پولیس مزید چھاپوں اور گرفتاریوں کے امکان کو بھی رد نہیں کر رہی۔
