کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والے نوجوان تاجر میر رضا علی کے معاملے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ مقتول کے والد نے پولیس کی جانب سے خودکشی کے ابتدائی خدشات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت سینے پر گولی لگنے اور زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے ہوئی۔ پولیس نے لاش گلستان جوہر کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ سے تحویل میں لی تھی، جس کے بعد علاقے میں صدمے کی لہر دوڑ گئی اور سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے۔
تفتیشی حکام واقعے کے وقت اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ میڈیکو قانونی افسران کے مطابق گولی لگنے سے اہم اعضا متاثر ہوئے جس سے جسم سے شدید خون بہہ گیا۔ اگرچہ پولیس کو موقع سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر پہلے اسے خودکشی کا واقعہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن ورثا نے اس مؤقف کو ماننے سے انکار کر دیا۔ والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ذہنی طور پر مضبوط تھا اور اسے کسی قسم کے مالی یا ذاتی تنازعات کا سامنا نہیں تھا جو اس انتہائی قدم کا باعث بنتے۔
ورثا کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
متاثرہ خاندان نے سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے والد کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ پر کچھ چیزیں مشکوک تھیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تفتیشی ٹیم پر زور دیا کہ موبائل فون کا ریکارڈ، کاروباری شراکت داروں کی سرگرمیاں اور اپارٹمنٹ کے اطراف کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو فوری طور پر تحویل میں لیا جائے۔
- پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ سینے پر گولی لگنا اور زیادہ خون بہنا بتائی گئی۔
- والد نے خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
- پولیس نے فارنزک شواہد اکٹھے کر کے تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔
شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات
اگر آپ کراچی یا ملک کے کسی بھی بڑے شہر میں رہائش پذیر ہیں تو اپنے اپارٹمنٹ اور گلی محلوں کی سیکیورٹی پر خاص توجہ دیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی رہائشی عمارت میں سی سی ٹی وی کیمرے اور داخلی راستوں پر سیکیورٹی گارڈز موجود ہوں۔ کسی بھی ناخوشگوار یا مشکوک واقعے کی صورت میں فوراً مقامی پولیس یا ہنگامی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں اور جائے وقوعہ کے شواہد کو چھیڑنے سے گریز کریں۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
اس کیس میں اب سب کی نظریں فارنزک لیبارٹری کی حتمی رپورٹ اور پولیس تفتیش پر مرکوز ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ تفتیشی افسران ہتھیار کے فنگر پرنٹس، بالسٹک رپورٹ اور سی سی ٹی وی شواہد کی روشنی میں کیا پیش رفت کرتے ہیں۔ اس واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے منصفانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔
