میر رضا کیس میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب مقتول کے والد کی جانب سے میڈیکل بورڈ میں آخری لمحات میں کی گئی تبدیلیوں پر اعتراض کے بعد قبر کشائی کی کارروائی مؤخر کر دی گئی۔ میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کراچی کے پولیس سرجن اور سیکریٹری صحت کو ہنگامی قانونی نوٹس ارسال کر دیا ہے۔

میر رضا کیس میں قبر کشائی کیوں روکی گئی؟

قبر کشائی کا عمل، جو آج صبح 9 بجے ہونا تھا، خاندان کی جانب سے تحقیقاتی عمل کی شفافیت پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد روک دیا گیا۔ لواحقین کا موقف ہے کہ راتوں رات میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو سے تحقیقات کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور خدشہ ہے کہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • تحقیقاتی صورتحال: تفتیشی افسر نے بیان کی صورت میں مجسٹریٹ کو باقاعدہ درخواست جمع کروا دی ہے جس میں خاندان کے تحفظات کا ذکر کیا گیا ہے۔
  • اہم مطالبہ: میر رضا کے والد نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس معاملے کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
  • بنیادی اعتراض: میر حسین نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ ابتدائی ایم ایل او کرنے والا افسر کہاں ہے اور اس کیس میں کسی کو بچانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔

انصاف کے لیے عدالتی نگرانی کا مطالبہ

میر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیٹے کے قتل کے بعد اب الٹا ان پر ہی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقاتی عمل کو شفاف بنایا جائے اور میڈیکل بورڈ میں ہونے والی تبدیلیوں کی وضاحت کی جائے۔ خاندان کا ماننا ہے کہ اگر میڈیکل بورڈ کی ساکھ مشکوک رہی تو پوسٹ مارٹم کے نتائج پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

اب آگے کیا ہوگا؟

پولیس سرجن اور سیکریٹری صحت کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ بغیر کسی شفاف طریقہ کار کے بورڈ میں تبدیلی کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ فی الحال، قبر کشائی کا عمل التواء کا شکار ہے اور اب مجسٹریٹ کی جانب سے تفتیشی افسر کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہی اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے نئے میڈیکل بورڈ یا قبر کشائی کی نئی تاریخ کے اعلان پر نظر رکھنا ضروری ہے۔